دُبئی:اسلام مخالف ٹویٹ کرنے والے اتُل کوچھڑ سے ہوٹل کی انتظامیہ نے ناتا توڑ لیا

بھارتی شہری کوچھڑ نے اپنے ٹویٹ میں مسلمانوں کو ہندوؤں پر ظلم کرنے والا قرار دیا تھا

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جون 12:40

دُبئی:اسلام مخالف ٹویٹ کرنے والے اتُل کوچھڑ سے ہوٹل کی انتظامیہ نے ..
دُبئی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14جُون 2018ء) دُبئی کے ہوٹل جے ڈبلیو میریٹ مارکیوز نے اسلام مخالف ٹویٹ کرنے والے اپنے ملازم ہیڈ شیف اتُل کوچھڑ کو نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کوچھڑ کے ٹویٹ کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر نسلی منافرت‘ تعصب اور اسلام سے چِڑ ہونے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ سُرندر کوچھڑ مذکورہ ہوٹل میں واقع انڈین ریسٹورنٹ رنگ میں ہیڈ شیف تھا اور اُس کی بہترین خدمات پر اُسے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

منگل کے روز‘ ہوٹل کی انتظامیہ کی جانب سے کوچھڑ کی ملازمت کا ایگریمنٹ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ہوٹل کی انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ شیف اتُل کوچھڑ کی جانب سے حالیہ کمنٹنس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوٹل کے جنرل مینجر نے اپنے ذیلی ریسٹورنٹ رنگ محل میں کوچھڑ کی شیف سے عہدے سے برخاستگی کا فیصلہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

اس معاہدے کے منسوخ ہونے سے کوچھڑ کا ریسٹورنٹ سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔‘‘کوچھڑ نے ہوٹل کی انتظامیہ کی جانب سے فیصلے کو پریشان کُن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُس نے اپنے بیان سے ہوٹل کو ایک مشکل پوزیشن میں لا کھڑا کیا تھا جس کے لیے وہ بہت شرمندہ ہے۔ کوچھڑ نے دُبئی میں موجود اپنے دوستوں اور چاہنے والوں سے معافی بھی طلب کی۔ واضح رہے کہ سُرندر کوچھڑ نے بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑہ کے ایک ٹویٹ کے جواب میں کہا تھا کہ ہندو دہشت گرد نہیں ہے وہ تو خود دو ہزار سال تک مسلمانوں کے خوف تلے زندگی گزارنے پر مجبور رہے ہیں۔

اس بیان نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ خصوصاً امارات میں مقیم افراد نے ہوٹل کی انتظامیہ سے کوچھڑ کو نوکری سے برخاست کرنے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر ہوٹل کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔