عالمی برادری کی طرف سے شنگھائی جذبیکی زبردست پذیرائی

خطے کے مختلف ملکوں کو آپس میں زیادہ قریبی تعاون کرنے کا موقع ملا ہے،ظفر الدین محمود پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا آغاز شنگھائی جذبے کی زندہ مثال ہے،سورن سنگھ چین مشترکہ تقدیر والی عالمی براردی کی تعمیر میں رہنماء کردار ادا کریگا،آمنہ محمد

جمعرات جون 14:15

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی چھنگ تائو سمٹ میں چینی صدر شی جن پھنگ نے اپنی تقریروںمیںشنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی،دوسری بین الاقوامی تنظیموں کیساتھ تعلقات اور عالمی انتظام وانصرام کے حوالے سے شنگھائی تعاون تنظیم کی آواز بلند کی اور ایک بار پھرشنگھائی جذبے کی وضاحت کی جس کی عالمی برادری کی جانب سے زبردست پذیرائی کی گئی ہے ۔

پاکستان کے سابق خصوصی ایلچی برائے سی پیک ظفر الدین محمود نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ذریعے خطے کے مختلف ملکوں کو آپس میں زیادہ قریبی تعاون کرنے کا موقع ملا ہے۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ مختلف سیاسی نظام اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے ممالک شنگھائی جذبے کی روشنی میںبخیروخوبی تعاون کرسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

بھارت کی جواہر لال نہرویونیورسٹی کے پروفیسر سوارن سنگھ نے یہ خیال ظاہرکیاکہ گزشتہ تین برسوں میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار رہی ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے ذریعے دونوں ملکوں کی نئی بات چیت شروع ہورہی ہے اور آپس میں انسداد دہشت گردی سمیت حساس مسائل پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔یہ شنگھائی جذبے کی زندہ مثال ہے ۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے چھنگ تاو سمٹ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ہم نصیب معاشرے کا تصور پیش کیا ہے ۔اس بارے میںاقوام متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل آمنہ محمد نے یہ خیال ظاہر کیا کہ چینی صدر نے پوری دنیا کی ترقی اور مستقبل کے تناظر میں بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کا تصور پیش کیا ہے۔اس سلسلے میں چین رہنما کردار ادا کریگا۔ ترقی کے راستے میں ہم کسی ملک کو بھی پیچھے نہیںرہنے دیںگے۔ اس ضمن میں دنیا کو چین کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔