سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے باوجود سابق صدر پرویز مشرف نے قریبی دوستوں کے مشورے کے باعث پاکستان نہ آ نے کا فیصلہ کیا،

سا بق فو جی افسران نے وطن واپسی کی صورت میں مشکلات پیدا ہو نے کا پیغام دیا، پر ویز مشرف مز ید چند ما ہ پا کستان نہیں آ ئیں گے، ذرا ئع

جمعرات جون 14:39

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے باوجود سابق صدر پرویز مشرف بعض قریبی دوستوںکے مشورے کے باعث پاکستان نہیں آئے اور وہ آنے والے دنوں میں بھی پاکستان واپس نہیں آئیں گے‘ پرویز مشرف کے قریبی دوستوں جن میں بعض سابق فوجی افسران بھی شامل ہیں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وطن واپس آنے کی صورت میں ان کے لئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اس لئے پاکستان واپس نہ آئیں۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے جب طلب کیا اور ان کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی بحالی کا حکم دیا تو سابق صدر کے کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران اور قریبی دوستوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ موجودہ صورتحال میں پاکستان آنے سے گریز کریں کیونکہ وہ مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر نے اپنے دوستوں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے وطن واپس نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب وہ آئندہ چند ماہ تک بھی پاکستان نہیں آئینگے۔ واضح رہے کہ اس سلسلہ میں ’’آئی این پی‘‘ نیوز ایجنسی نے تین روز قبل ہی یہ خبر دیدی تھی کہ سابق صدر پاکستان نہیں آئینگے کیونکہ ان کے قریبی دوست ان کو وطن واپس نہ آنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔