آل پارٹیز آلائنس لیپہ کرناہ کا حکومت آزاد کشمیر کو 1 ماہ کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے بھرپور احتجاج کا اعلان

عید الفطر کے بعد وادی لیپہ کرناہ میں تمام مکاتب فکر کی مشاورت ، اعتماد سازی سے پہلا سالانہ لیپہ کرناہ یوتھ کنونشن کا انعقاد منعقد کیا جائیگا

جمعرات جون 14:44

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) آل پارٹیز آلائنس لیپہ کرناہ نے ٹنل تعمیر کے لئے وفاقی بجٹ میں مختص کئے جانے والے پچاس کروڑ روپے سے جاریہ منصوبہ بنانے کے لئے ماہرین پر مشتمل ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کر کے 3 ماہ کے اندر سنگ بنیاد رکھنے ، قانون ساز اسمبلی کو وعدوں ، اعلانات اور معاہدوں مطابق الگ حلقہ انتخاب بنانے ، جنگلات سے لکڑی کی آمدن سے حاصل ہونے والی رائیلٹی، ارسرنو ووٹر لسٹوں کی تیاری ، مین بازار آتشزدگی کے متاثرہ تاجروں کی امداد سمیت20 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کے لئے حکومت آزاد کشمیر کو 1 ماہ کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے بھرپور احتجاج کا اعلان کر دیا ، جبکہ عید الفطر کے بعد وادی لیپہ کرناہ میں تمام مکاتب فکر کی مشاورت ، اعتماد سازی سے پہلا سالانہ لیپہ کرناہ یوتھ کنونشن کا انعقاد ، نام تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے مضر سماجی اثرات پر قابو پانے کے لئے گرینڈ جرگہ منعقد کر کے تاریخی مشعل بردار ریلی نکالنے کے لئے عوام رابطہ مہم کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا عوامی مطالبات کے پیش نظر ڈیڈ لائن کے اختتام پر لیپہ تا مظفرآباد لانگ مارچ ، تادم مرگ بھوک ہڑتال ، لکڑی کی ترسیل روکنے سمیت معروف سخت گیر جمہوری احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے ، عید الفطر کے روز سے ہی ال پارٹیز آلائنس کی کور کمیٹی کے عہدیداران ، سابق میڈیا ایڈوائزر شوکت جاوید میر ، کرناہ عوامی اتحاد کے صدر اشتیاق بخاری ، ترجمان آل پارٹیز منصور عالم قریشی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ لیپہ کرناہ کی دونوں یونین کونسل ہا کے جملہ دیہات میں عوام رابطہ مہم کا بھرپور آغاز کر کے معززین علاقہ ، سیاسی و سماجی ، مذہبی زعماء ، طلباء ، تاجر ، صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو اجتماعی مفادات کے لئے کی جانے والی جدوجہد کے فیصلہ کن رائونڈ شروع کرنے کے لئے اعتماد میں لیں گے اور اعلیٰ عوامی نمائندہ وفد حکومت آزاد کشمیر ، عسکری قیادت ، سیاسی جماعتوں کے سربرہان ، الیکٹرانک پرنٹ میڈیا سے وابستہ شخصیات سے ملاقاتیں کر کے عوامی مسائل پر حمایت حاصل کرنے کے لئے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرئے گا ، گزشتہ روز 20 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کے لئے عوام رابطہ مہم شروع کرنے کے سلسلہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سابق میڈیا ایڈوائزر شوکت جاوید میر نے کہا لیپہ کرناہ کے غیر ت مند سرفروش عوام کی طویل ترین صبر آزماء خون آلود جدوجہد کو دلفریب وعدوں اور سبز باغات کے حسین تصور سے باہر نکال کر عمل درآمد کے نتیجہ خیز مراحل کی طرف روانہ ہے جس کے لئے لیپہ کرناہ کے عزت دار عوام تمام تر سیاسی ، نظریاتی ، ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر آنے والی نسلوں کے تابناک مستقبل کے لئے اتحاد و اتفا ّق کی گہری مضبوط بنیادوں پر کو ہ ہمالیہ جیسی فلک بوس عمارت تعمیر کرینگے ، اسی لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب پہلا لیپہ کرناہ سالانہ یوتھ کنونشن منعقد کر کے اجتماعی حقوق اور حل طلب دیرینہ مسائل کی آنر شپ نوجوان نسل کے ہاتھوں میں منتقل کرنی ہے سارے تحفظات کے باوجود وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر خان ، سابق وزراء اعظم چوہدری عبدالمجید ، سردار عتیق احمد خان ، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری ، انجینئر خالد محمود سمیت چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ، قومی سلامتی کے اداروں امیداواران اسمبلی اور ایم ایل اے ڈاکٹر مصطفی بشیر ، چوہدری محمد رشید ، دیوان علی خان چغتائی ، انجینئر رفاقت حسین اعوان ، محمد عارف مغل، مبشر منیر اعوان سمیت تمام آکابرین کے شکر گزار ہیں جنہوں نے عصر حاضر میں چاند پر بستیاں بسانے کے جدید دور میں پتھر کے دور کی زندگیاں بسر کرنے والے لیپہ کرناہ کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی حمایت کی لیکن اب یا کبھی نہیں کے فیصلہ کن مرحلے کے لئے عوام تیار ہو چکے ہیں ہمیں بڑی سے بڑی قربانی دے کر عزت وقار اور جائز حقوق مل جائیں تو یہ تجارت گھاٹے کی نہیں بلکہ عبادت کا اعلیٰ درجہ ہے ۔

(جاری ہے)

پیرزادہ شامی ایڈووکیٹ ، سعید اختر اعوان، سید امتیاز علی شاہ ، عثمان صدیق لون، مدثر شیخ ، طفیل احم صیاف سمیت ہمارے فورم کے درجنوں ساتھی کئی دنوں سے وادی لیپہ کے تمام دیہاتوں میں رابطہ مہم میں مصروف ہیں جس کو حتمی شکل دینے کے لئے سینئر قیادت اور کور کمیٹی ، میڈیا کو اعتماد میں لے کر اگلے چند ایام میں مستقبل کی حکمت عملی کا اعلان کرینگے ہماری فیصلہ کن جدوجہد کا محور و مرکز ہٹیاں ، مظفرآباد ، اسلام آباد کے بجائے وادلی لیپہ کرنا ہوگا اور ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد راولپنڈی ، اسلام آباد ، مظفرآباد، لاہور اور دیگر شہرو ں میں رزق حلال کمانے والوں کو ہی نہیں بیرون ملک سے بھی علاقہ کے لوگوں کو تحریک میں شامل ہونے کے لئے واپس آنے کے لئے کال دی جائے گی جس کے لئے ہمارے ان کے ساتھ مربوط رابطے اور ان کا مکمل تعاون حاصل ہے ۔