تیراکی کے لباس میں تصاویر پر روسی استانی کی نوکری چلی گئی‘

نوکری کی بحالی کیلئے سوشل میڈیا پر مہم شروع مہم کے دور ان خاتون نے سکول ٹیچر کی برخاستگی کو ’منافقت، احمقانہ حرکت اور پاگل پن کی شرمناک مثال‘ قرار دیا

جمعرات جون 15:15

تیراکی کے لباس میں تصاویر پر روسی استانی کی نوکری چلی گئی‘
ماسکو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) روس کے سوشل میڈیا صارفین نے اس خاتون سکول ٹیچر کی حمایت میں مہم چلائی ہے جنھیں تیراکی کے لباس میں تصاویر سامنے آنے کے بعد نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔26 سالہ وکٹوریہ پوپووا کی سوشل میڈیا پر تیراکی کے لباس میں تصاویر سامنے آنے کے بعد ہی انھیں نوکری سے برخاست کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق روس کے شہر اومکس کے سکول نمبر سات کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وکٹوریہ پوپووا نے اپنے سکول اور پیشے کو بدنام کیا ہے۔

پوپووا کو برخاست کرنے کا فیصلہ انسٹا گرام پر ان کی تیراکی کے لباس میں تصاویر آنے کے بعد کیا گیا۔ اگرچہ بعد میں ان کی تصاویر کو حذف کر دیا گیا ۔اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تقربیاً تین ہزار افراد نے ’اساتذہ بھی لوگ ہیں‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے اپنی تیراکی کے لباس میں تصاویر شیئر کیں۔

(جاری ہے)

آن لائن مہم کے دوران ایک خاتون نے سکول ٹیچر کی برخاستگی کو ’منافقت، احمقانہ حرکت اور پاگل پن کی شرمناک مثال‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اساتذہ ہیں لیکن ہم انسان بھی ہیں، چنانچہ ہمیں سکول سے باہر اور سوشل میڈیا پر مختلف نظر آنے کا حق ہے۔ایک شخص نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’بالکل پاگل پن‘ قرار دیا جبکہ ایک دوسرے شخص نے سکول ٹیچر کو برخاست کرنے کے فیصلے پر تنقید کی اور اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب بیوقوف وجوہات کی بنا پر اپنے آپ کو بچانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

متعلقہ عنوان :