عالمی برداری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، بھارتی مظالم کا نوٹس لے،سینیٹر اعظم سواتی

جمعرات جون 15:21

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر محمد اعظم خان سواتی نے پاکستان اور فرانس کے مابین پارلیمانی، دفاعی ، تجارتی اور تعلیمی میدانوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کثیرجہتی تعاون کے ذریعے دونوں ملک ایک دوسرے کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جایا سکتا ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار فرانس کے سفیر مارک بریٹی سے پارلیمنٹ ہائوس میں ملاقات کے دوران کیا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فرانس کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ملکوں میں بین الاقوامی سطح مثالی تعاون موجود ہے ۔سینیٹر اعظم خا ن سواتی نے جی ایس پلس کے مسئلے پر فرانس کی جانب سے پاکستان کی حمایت کو سراہا اور کہا کہ اس اقدام سے پاکستانی برامدات کو یورپی منڈ یوں تک رسائی ملی ہے انہوں نے دفاع اور سیکورٹی کے معاملات اور غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانے کے سلسلے میں فرانس کی معاونت کی بھی تعریف کی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے تاہم بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں رہ سکتا اور عالمی برداری کو بھارتی مظالم کا نوٹس لینا چائیے ۔سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی ہر طرح سے مذمت کرتا ہے ۔ چین پاکستان اقتصادی راہ داری کی اہمیت کا ذ کر کرتے ہوئے سینیٹر اعظم سواتی نے سی پیک کو گیم چینجر قرار دیا اور کہا کہ اس اقدام کی بدولت پاکستان اور خطے میں سماجی اور اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے مدد ملے گی ۔

انہوں نے پاکستان اور فرانس کے مابین تجارتی حجم بڑھانے پر بھی زور دیا ۔ فرانس کے سفیر نے سینیٹر اعظم سواتی کو بتایا کہ پاکستان فرانس کے لیے اہم ملک ہے اور سرمایہ کاری کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں تاہم بورڈ آف انویسٹمنٹ کو اس ضمن میں موثر کردار ادا کرنا ہو گا اور سرمایہ کاری بورڈ کو ون ونڈو کے طور پر کام کر نا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور فرانس میں مثالی تعاون رہا ہے تاہم پچھلے کچھ عرصے سے دفاع کے شعبے میں فرانس کی کمپنیوں کو کنٹریکٹ کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے ۔

سینیٹر اعظم سواتی نے پاکستان اور فرانس کے مابین تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔ سفیر نے آگاہ کیا کہ چند ماہ قبل پاکستان کے دورے پر آئے فرانس کے پارلیمانی وفد نے سی پیک ، اوبی او آر اور بی آر آئی پر ایک تفصیلی رپوٹ جاری کی ہے ۔انہوں نے سفیر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ۔