بھارت، گذشتہ ایک سال کے دوران متوسط طبقہ کے ساڑھے 5کروڑ شہری غریب طبقہ میں شامل

کروڑ 80 لاکھ محض ادویات خریدنے کی وجہ سے خط غربت سے نیچے چلے گئے،علاج معالجہ پر کل آمدنی کا10 فیصد سے زائد اخراجات خاندان کے مالی حالات کیلئے تباہ کن ثابت ہوتا ہے،پبلک ہیلتھ فائونڈیشن آف انڈیا کا امکشاف

جمعرات جون 15:27

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) بھارت میں گذشتہ ایک سال کے دوران متوسط طبقہ کے ساڑھے 5کروڑ شہری غریب طبقہ میں شامل ہوگئے،3 کروڑ 80 لاکھ محض ادویات خریدنے کی وجہ سے خط غربت سے نیچے چلے گئے،،علاج معالجہ پر کل آمدنی کا10 فیصد سے زائد اخراجات خاندان کے مالی حالات کیلئے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق بھارت میں علاج معالجہ پر اخراجات کے نتیجہ میں گزشتہ ایک سال کے دوران ساڑھے 5کروڑ ہندوستانی شہری متوسط طبقہ سے نکل کر غریب طبقہ میں شامل ہوگئے اور ان میں سی3 کروڑ 80 لاکھ محض ادویات خریدنے کی وجہ سے خط غربت سے نیچے چلے گئے۔

یہ انکشاف پبلک ہیلتھ فائونڈیشن آف انڈیا کی طرف سے جاری رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ برطانوی طبی جریدے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ہندوستانی خاندانوں کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ کینسر، ذیابیطس اور دل کے امراض پر خرچ ہوتا ہے تاہم سب سے زیادہ اخراجات کینسر کے علاج معالجہ پر ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

ٹریفک حادثات میں زخمی ہونے پر علاج معالجہ کے اخراجات غریب خاندانوں کی مالی حالت کیلئے ناقابل برداشت بوجھ ثابت ہوتے ہیں۔

علاج معالجہ پر کسی بھی کنبہ کی کل آمدنی کی10 فیصد سے زیادہ اخراجات کو اس کنبہ کے مالی حالات کیلئے تباہ کن تصور کیا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے بعض ادویات کی قیمتیں کم کرنے جیسے اقدامات بھی اس سلسلہ میں غیر موثر ثابت ہوئے ہیں ۔سرکاری ہیلتھ انشورنس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوںکی تعداد بھی بہت کم ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی قلت کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ حکومت کی طرف سے سرکاری میڈیکل اسٹورز کے ذریعے سستی ادویات کی فراہمی میں بھی مشکلات ہیں کیونکہ ملک میں کھولے گئے اس طرح کے 3 ہزار اسٹورز پر اکثر ادویات دستیاب ہی نہیں ہوتیں اور جو ادویات دستیاب ہیں ان کے معیاری ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔