نظریاتی طور پر پاکستانی ہیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کے ضرور ت نہیں‘ آزادکشمیر کے عوام کو بااختیار بنانے کیلئے آئین میں ترمیم لائے ‘ آنے والا وقت بتائے گا کہ ہم نے صحیح کیا یا غلط‘اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور دیگر تمام مکتبہ فکر کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں ملکر بیٹھیں اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو اسے بھی پورا کیا جا سکتا ہے‘ آئینی ترمیم کی منظوری اور کونسل کے خاتمہ کے حوالہ سے مقبوضہ کشمیر سے بھی مبارکباد کے فون آئے‘ اس پار بھی مثبت پیغام گیا ہے

وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کا افطار ڈنر کے موقع پر خطاب

جمعرات جون 16:04

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ نظریاتی طور پر پاکستانی ہیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کے ضرور ت نہیں ۔ آزادکشمیر کے عوام کو بااختیار بنانے کے لئے آئین میں ترمیم لائے ۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ ہم نے صحیح کیا یا غلط۔اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور دیگر تمام مکتبہ فکر کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں ملکر بیٹھیں اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو اسے بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔

آئینی ترمیم کی منظوری اور کونسل کے خاتمہ کے حوالہ سے مقبوضہ کشمیر سے بھی مبارکباد کے فون آئے۔ اس پار بھی مثبت پیغام گیا ہے۔ عوام کی آبرو کی لڑائی لڑی ہے اور عوام کے لئے لڑتا رہوں گا چاہے کوئی ناراض ہو یا راضی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے سنٹرل پریس کلب مظفرآباد میں ممبران و عہدیداران کی جانب سے ان کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر آزادکشمیر کے وزیر اطلاعات مشتاق احمد منہاس، سابق وزیرحکومت سید بازل علی نقوی، مسلم کانفرنس کے راہنما دیوان علی خان چغتائی، جموں وکشمیر لبریشن لیگ کے راہنما خواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ، جماعت اسلامی کے راہنما شاہد حمید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل فرحت علی میر، سیکرٹری جموں وکشمیر لبریشن سیل محمد ادریس عباسی، وکلاء، تاجر، سنٹرل پریس کلب کے صحافیان کرام اور دیگر مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی موجود تھے۔

افطار ڈنر سے صدر سنٹرل پریس کلب سید ابرار حیدر، جنرل سیکرٹری راجہ شجاعت خان، محمد عارف عرفی، سفیر رضا اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ ریاست کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے عبوری آئین 1974ء میں ترامیم کی منظوری مثبت ثابت ہوگی اور آنے والا وقت بتائے گا کہ اس سے ریاست میں کتنی تبدیلی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے عوام کو انتظامی و مالیاتی طور پر بااختیار بنانے کے لئے ایکٹ 74ء میں ترامیم کو آسان کام نہیں تھا بلکہ اس کے لئے اپنے آپ کو داؤ پر لگانا تھا۔ وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ جو کچھ کیا صرف اور صرف آزادکشمیر کی عوام کی بہتری کے لئے کیا۔ میرا ذاتی کوئی ایجنڈہ نہیں اور نہ ہی مجھے کسی چیز کی ضرورت ہے اور آئندہ بھی ریاست کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑتا رہوں گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیرت مند ماں کا دودھ میری رگوں میں ہے عوام کی آبرو کی جنگ لڑتا رہوں گا۔ عبوری آئین کی منظوری میں ساتھ دینے والی تمام جماعتوں کا شکرگزار ہوں۔ آخر میںوزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کو صدر سنٹرل پریس کلب سید ابرار حیدر نے شیلڈ بھی پیش کی۔