پاکستان سپریم کورٹ کے حکم کا اطلاق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر لاگو نہ ہو سکا

پاکستان موبائل فون کمپنیوں نے ریچارج کرنے پر پُرانے غیر قانونی طریقے کے مطابق لوڈ کیا گیا

جمعرات جون 16:11

سہنسہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) پاکستان سپریم کورٹ کے حکم کا اطلاق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر لاگو نہیں ہوا۔ پاکستان موبائل فون کمپنیوں نے ریچارج کرنے پر پُرانے غیر قانونی طریقے کے مطابق لوڈ کیا ۔جس سے موبائل کمپنیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔سہنسہ میں انجمن تاجراں کے صدر راجہ محمد سلیم خان نے موبائلز کمپنیوں کی لوٹ کھسوٹ اور سینہ زوری کی پُر زور مذامت کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے اور کہا کہ آزاد کشمیر حکومت اپنی ذمہ داری کا احساس کرے ۔

موبائلز کمپنیوں کے خلاف ایکشن لے ان کمپنیوں کے دفاتر کو فوری طور پر سیل کیا جائے اور کمپنیوں کے ٹاورز بند کر دیں۔ پاکستان کی یہ مادر پدر آزاد کمپنیاں آزاد کشمیر کو چراہ گاہ سمجھتیں ہیں ۔

(جاری ہے)

ان کے اس قسم کے قوانین سے تحریک آزادی کشمیر پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں اور اس کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ سروئے کے دوران پریس سہنسہ نے عام صارفین سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ گزشتہ روز سے 100 روپے کے لوڈ پر 100 روپے کے بجائے حسب سابق 77.18 روپے صارفین کے کھاتہ میں بھیجے جا رہے ہیں۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے بانی و جنرل سیکرٹری سردار بابر حسین نے موبائلز کمپنیوں کے اس رویے کی مذامت کرتے ہوئے کہا کہ ہم آزاد کشمیر میں اس قسم کی بدمعاشی کو نہیں چلنے دیں گے۔ انہوں نے تمام کمپنیوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر 14 جون رات 12 بجے سے لوڈ کروانے والوں کے کھاتہ میں کٹوتی شدہ رقم واپس کریں ورنہ اپنے ٹاورز اکھاڑ کر لے جائیں۔

عوام کو بغاوت پر نہ اُکسایا جائے۔ گزشتہ روز سہنسہ میں صارفین کی بڑی تعداد نے چیک کرنے کے لیے ایزی لوڈ ، کارڈ اور اپنے ایزی پیسہ اکائونٹس سے ریچارج کیا مگر مایوسی ہوئی ۔جب ایس سی او آزاد کشمیر کا 100 روپے کے کارڈ لوڈ کر کے چیک کیا گیا تو100 روپے واپس آئے۔ پر پاکستان کے مادر پدر آزاد کمپنیوں نے آزاد کشمیر کی عوام کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا ہے