پولیس نے ذاتی اختلافات اور دھڑے بندی کے باعث مجھ پر قتل کا مقدمہ درج کیا ،ْ رائو انوار کا الزام

میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں، جے آئی ٹی میں میرا فون نمبر بھی غلط ڈالا گیا، ایسا فون نمبر ڈالا گیا ہے جو میرے استعمال میں ہی نہیں ،ْمیڈیا سے گفتگو

جمعرات جون 17:18

پولیس نے ذاتی اختلافات اور دھڑے بندی کے باعث مجھ پر قتل کا مقدمہ درج ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) نقیب اللہ قتل کیس میں ملوث سابق پولیس افسر راؤ انوار نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے ذاتی اختلافات اور دھڑے بندی کے باعث مجھ پر قتل کا مقدمہ درج کیا۔سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پھٹ پڑے اور پیٹی بھائیوں پر خود کو پھنسانے کا الزام عائد کیا۔ کراچی میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ سابق ایس ایس پی ملیر اور قتل میں نامزد ملزم راؤ انوار سمیت 10 ملزمان کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

نقیب اللہ کے والد کے وکیل ایڈووکیٹ صلاح الدین پنہور کی غیر حاضری کی وجہ سے سماعت 4 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔سماعت کے بعد احاطہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راؤ انوار نے کہا کہ پولیس نے ذاتی گروپنگ اور اختلافات کی وجہ سے مجھ پر قتل کا مقدمہ درج کیا، میرے خلاف نقیب اللہ قتل کیس میں شواہد موجود نہیں ہیں، پیشہ ورانہ رقابت کی وجہ سے میرے خلاف کارروائی کرائی گئی۔

(جاری ہے)

راؤ انوار نے کہا کہ میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں، جے آئی ٹی میں میرا فون نمبر بھی غلط ڈالا گیا، ایسا فون نمبر ڈالا گیا ہے جو میرے استعمال میں ہی نہیں، 21 مارچ کو میں سپریم کورٹ میں تھا، جبکہ جے آئی ٹی میں جو فون نمبر ڈالا گیا اس کی لوکیشن کراچی تھی، مجھ پر دو خود کش حملے ہو چکے ہیں میرے گھر کو سب جیل قرار دینا بے جا عنایت نہیں ہے کیونکہ مجھ پر دو خود کش حملے ہو چکے ہیں۔

راؤ انوار نے کہا کہ ایک شخص نے میرے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی جسے بعد میں گرفتار کیا گیا، میرے سر کی قیمت مقرر کرنے والے شخص کو چیف جسٹس نے گرفتار کرایا، مجھے ہر تنظیم کے دہشتگرد نے دھمکی دی ہے، مجھے را اور دیگر کالعدم تنظیموں سے بھی خطرہ ہے، مجھے تھریٹ لیٹر وفاق، صوبائی حکومت اور آئی جی سندھ سے بھی موصول ہوئے، مجھے غلط مقدمے میں نامزد کیا گیا، نہ میں نے نقیب اللہ کو پکڑوایا، نہ مارا، ریکارڈ موجود ہے، میں اس مقدمے میں بری ہوجاؤں گا۔