پچھلے سال شمالی شام میں ’کلورین‘ گیس استعمال کی گئی تھی:اوپی سی ڈبلیو

کلورین‘ گیس کے استعمال سے بڑ ی تعداد میں ہلا کتیں بھی ہو ئیں ، رپورٹ

جمعرات جون 17:21

دبئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) کیمیائی اسلحہ کے استعمال کے خلاف سرگرم عالمی تنظیم ’اوپی سی ڈبلیو نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس بات کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں کہ گذشتہ برس شمالی شام میں عالمی سطح پر ممنوعہ کلورین گیس جنگ میں استعمال کی گئی تھی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شمالی شام میں مبینہ کیمیائی حملوں کے بعد لیے گئے نمونوں سے ثابت ہوا ہے کہ 24 مارچ 2017ئ کو حما? کے علاقے اللطامن? میں ’کلورین‘ گیس کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے 25مارچ 2017ئ کو اللطامنہ اسپتال میں لائی گئی لاشوں اور زخمیوں سے یہ نمونے حاصل کیے تھے۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال مارچ کیآخری ایام میں شمالی حما? میں جاری لڑائی کے دوران مبینہ کیمیائی حملوں میں دم گھنٹے سے بیسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیرین گیس چند سکینڈز میں اثر کرنا شروع کردیتی ہے جب کہ اگر اسے سائل شکل میں استعمال کیا جائے تو اس کی اثر پذیری میں چند منٹ لگ جاتے ہیں۔

سیرین اور کلورین گیسیں سانس کو متاثر کرنے کے ساتھ جلد پر اثرا انداز ہوتی ہیں۔ ان میں موجود فاسفوری مادہ غدود، پٹھوں اور سانس کو متاثر کرتا ہے۔ اس کینتیجے میں ناک سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے، غیرمعمولی متلی اور سانس لینیمیں دشواری بالآخر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

متعلقہ عنوان :