اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقو ق کی صورتحال کے بارے میں پہلی رپورٹ جاری کر دی

انسانی حقو ق کی پامالیوں میں ملوث اہلکاروں کیخلاف کارروائی اور متاثر ہ کشمیریوں کو انصاف کی فراہمی پر زور

جمعرات جون 18:57

جنیوا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) اقوا م متحدہ نے جموںوکشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی پہلی رپورٹ میں انسانی حقوق کی پامالیوں میںملوث بھارتی فورسز کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور متاثرہ کشمیریوں کو انصاف کی فراہمی پر زوردیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے دفتر کی طرف سے جاری رپورٹ میں جولائی2016سے رواں سال اپریل تک مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کشمیری عوام کو گزشتہ سات دہائیوں سے ایک تنازعہ کا سامنا ہے اور اس عرصے کے دوران لاتعداد افراد کی زندگیاں تباہ ہو گئی ہیں۔ 49صفحات پر مشتمل رپورٹ میںمقبوضہ کشمیرمیں رائج کالے قوانین کے تحت بھارتی فورسز کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام اورانسانی حقو ق کی پامالیوں کی کھلی چھوٹ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر زید رعد الحسین نے کہاہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی تنازعہ طویل عرصے تک مرکز نگاہ رہا ہے اور اسکی وجہ سے لاکھوں لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں اور کشمیری عوام کو آج بھی بے شمارمشکلات اور مصائب کا سامنا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ وہ چاہتے ہیںمسئلہ کشمیر کے کسی بھی سیاسی حل میں ظلم و تشدد کے خاتمے اور انسانی حقوق اور ظلم و تشدد کے واقعات میںملوث اہلکاروں کااحتساب اور متاثرین کو انصا ف کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ زید رعدالحسین نے عالمی ادارے کی انسانی حقوق کونسل پر زوردیاکہ وہ کشمیرمیں انسانی حقو ق کی پامالیوں کے الزاما ت کی آزادانہ جامع بین الاقوامی تحقیقات کیلئے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے پر غور کرے۔

رپورٹ میں کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے سانحہ کنن پوشپورہ ،جبری گمشدگیوں اور بھارتی فوجیوں کی طرف سے مہلک پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال اور کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت انہیں حاصل انسانی حقو ق کی پامالیوں کی کھلی چھوٹ کا بھی ذکر کیاگیا ہے ۔