صوابی کی دو قومی اور پانچ صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے 146 اُمیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال جاری

جمعرات جون 19:08

صوابی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) صوابی کی دو قومی اور پانچ صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے 146 اُمیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ،اُمیدواروں کی جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری ہے جو 19 جون تک جاری رہے گا ،سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسدقیصر ،،مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے شیراز خان ، سابق ایم پی اے بابرسلیم اور دیگر اُمیدواروں کی کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے ،صوابی کے دو قومی نشستوں کیلئے 41 جبکہ پانچ صوبائی نشستوں کیلئے 105 اُمیدوار میدان میں ہیں ،،قومی اسمبلی کے دوحلقوں این اے 18 کیلئے 20 اوراین ای19 کیلئے 21 اُمیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی کے 43 کیلئے 31 ،پی کے 44 کیلئے 22 ، پی کے 45 کیلئے 18 ، پی کے 46 کیلئے 15 اور پی کے 47 کیلئے 19 اُمیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے ہیں ،صوابی کے قومی اسمبلی کا حلقہ این اے، پی کے 43 ،44 اور آدھا 45 پر مشتمل ہیں جبکہ این اے 19، پی کے 46،47 اور آدھا 45 پر مشتمل ہیں ، کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد اُمیدواروں کی سکرونٹی کا عمل شروع ہوچکا ہے جوکہ 19 جون تک جاری رہے گا ،سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسدقیصر نے تین حلقوں این اے 18 ، پی کے 43 اور پی کے 44 کیلئے کاغذات جمع کردئیے ہیں ، سابق صوبائی وزیر صحت شہرام ترکئی نے حلقہ پی کے 47 جبکہ شہرام ترکئی کے چچا عثمان خان ترکئی نے این اے 19 جبکہ ان کے ایک اور چچا محمد علی ترکئی نے پی کے 46 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ، این اے 18 پر پی ٹی آئی کے اسدقیصر ،ایم ایم اے کے مولانا فضل علی حقانی ،،اے این پی کے محمد اسلام خان اور مسلم لیگ ن کے سجادخان یا دلدار خان کے مابین مقابلہ ہوگا ،این اے 19 میںایم ایم اے کے مولانا عطاء الحق درویش، اے این پی کے وارث خان اور پی ٹی آئی کے عثمان ترکئی کے ما بین مقابلہ ہوگا ،اگر اسی حلقے پر نظر ڈالی جائے تو پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان سابق ایم این اے عثمان ترکئی سے نالاں نظر آتے ہیں تو اسلئے ایم ایم اے اور اے این پی کے مابین کانٹے کے مقابلے کی تو قع کی جاسکتی ہے ،این اے 19 اور پی کی47 پر ایم ایم اے اور مسلم لیگ ن کے مابین اتحاد متوقع ہے ،اگر ان دو حلقوں پر یہ اتحاد ہوگیا تو ایم ایم اے کے مولانا عطاء الحق درویش اور مسلم لیگ ن کے اعجاز اکرم کی پوزیشن مزید مستحکم ہوجائے گی، حلقہ پی کے 43 میں پی ٹی آئی میں شدید اختلافات سامنے آرہے ہیں ،پی ٹی آئی کے تحصیل کونسلران نعمت خان ،ندیم خان آف زروبی ،عامر خان ،رنگیز احمد اور دولت خان نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ،پی ٹی آئی کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کی جانب سے اسی حلقے پر ابھی تک امیدوار کا نام فائنل نہ ہوسکا ،یہاں پر مسلم لیگ ن کے شیراز خان ،ایم ایم اے کے سجاد خان اور پی ٹی آئی کے مابین مقابلہ ہوگا ،پی کے 44 میں مسلم لیگ ن کے بابرسلیم ،،اے این پی کے گل زمین شاہ اور ایم ایم اے کے عثمان شیر کے مابین مقابلہ ہوگا ،پی کے 45 میں ایم ایم اے کے مولانا محمد امین دوست ،پی ٹی آئی کے عبدالکریم اور مسلم لیگ ن کے نوابزادہ یا عدنان خان کے مابین مقابلہ ہوگا ،پی کے 46 میں اے این پی کے ایاز شعیب اور ایم ایم اے کے محمود الحسن کے مابین مقابلہ ہوگا ،پی کے 47 میں مسلم لیگ ن کے اعجاز اکرم ،،اے این پی کے امیر رحمن اور پی ٹی آئی کے شہرام خان ترکئی کے مابین مقابلہ ہوگا ۔