کشمیر میں ہراساں کرنے کے واقعات ، سربراہ انسانی حقوق اقوام متحدہ نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا

انسانی حقوق کونسل پر زور دیں گے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر ایک جامع بین الاقوامی تحقیقات کرنے والے سی او آئی قائم کرنے پر غور کرے، زید رادا الحسین

جمعرات جون 19:39

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) اقوام متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق زید راد الحسین نے کشمیر میں ہراساں کرنے کے واقعات کی بڑے پیمانے پر تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ انسانی حقوق کے سربراہ زید راد الحسین کی جانب سے کہا گیا کہ کشمیر میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔زید راد الحسین کا کہنا تھا کہ وہ انسانی حقوق کونسل پر زور دیں گے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر ایک جامع بین الاقوامی تحقیقات کرنے والے کمیشن آف انکوائری ( سی او آئی) قائم کرنے پر غور کرے۔

یاد رہے کہ سی او آئی اقوام متحدہ کی اعلی سطح تحقیقات میں سے ایک ہے جو عام طور پر بڑے بحرانوں کی تحقیقات کرتا ہے۔واضح رہے کہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری رپورٹ میں کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کی جانب کی جانے والی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی گئی۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا کہ جولائی 2016 میں بھارت کی جانب سے 22 سالہ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کو قتل کیے جانے کے بعد زید راد الحسین نے دونوں ممالک کی حکومتوں کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی۔

اقوام متحدہ کی جانب سے کہا گیا کہ برہان وانی کی موت کے بعد ہونے والے بڑے اور بے مثال مظاہروں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور کشمیر میں غیر مشروط رسائی کا مطالبہ کیا گیا لیکن کوئی حکومت اس پر راضی نہیں ہوئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ انسانی حقوق کے دفتر نے اس خطے کی ریموٹ نگرانی کا آغاز کیا اور جنوری 2016 سے رواں سال اپریل تک ہونے والے مبینہ واقعات پر ایک رپورٹ تیار کی گئی۔

اس رپورٹ میں اصل توجہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر پر مرکوز کی گئی، جس میں بھارتی فوج پر الزام لگاتے ہوئے اسے 145 افراد کے غیر قانونی قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، اس کے علاوہ اسی عرصے میں عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے 20 افراد کو قتل کیا گیا۔اس بارے میں زید راد الحسین کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ بھارتی حکام کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے زیادہ استعمال کی متعدد مثالوں کی تکرار سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

دوسری جانب آزاد جموں اور کشمیر ( اے جے کے ) کے حوالے سے رپورٹ میں بڑی تعداد میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی لیکن یہ بتایا گیا کہ یہ مختلف پیمانے اور یہ زیادہ ترکیبی نوعیت کی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ آزاد کشمیر میں آزادی اظہار رائے پر پابندیاں ہیں اور اسمبلی کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کرسکے۔۔اقوام متحدہ کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان کو پرامن سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف لوگوں اور اختلافات رکھنے والوں کو پریشان کرنے استعمال کیے جانے والے انسداد دہشت گردی قانون کے غلط استعمال کو ختم کرنا چاہیے۔۔