اسلام آباد،وفاقی پولیس کا بھکاریوں کیخلاف آپریشن، 15 سالہ بچہ فیصل چوک کے قریب گاڑی تلے آ کر جان بحق

پولیس اہلکار فلک شیر کو پکڑنے بھاگے تو وہ تیز رفتار کار کی ٹکر لگنے سے گا ڑی کء نیچے آ گیا پولیس نے موقع پر ڈرائیور حبیب ظفر کو گرفتار کر کے بعد ازاں اس کی ضمانت کرا دی

جمعرات جون 21:51

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) وفاقی پولیس کا بھکاریوں کیخلاف آپریشن، 15 سالہ بچہ فیصل چوک کے قریب گاڑی تلے آ کر جان بحق پولیس اہلکار فلک شیر کو پکڑنے بھاگے تو وہ تیز رفتار کار کی ٹکر لگنے سے گا ڑی کء نیچے آ گیا پولیس نے موقع پر ڈرائیور حبیب ظفر کو گرفتار کر کے بعد ازاں اس کی ضمانت کرا دی ۔گزشتہ روز بھکاریوں کیخلاف اسلام آباد پولیس کے آپریشن کے دوران پولیس اہلکار اے ایس آئی جمیل اور ڈرائیور کیانی نوعمر فلک شیر کوپکڑنے بھاگے تو چوکوں پر کلر بک فروخت کر کے اہل خانہ کا پیٹ پالنے و عید کے کپڑے خریدنے کا خواہشمند پیسے بچانے کی خاطر بھاگا سے ڈر کر بھاگنے والا 15 سالہ لڑکا فلک شیر تیز رفتار گاڑی اے جی ڈی 186 تلے آکر کچلا گیا جو موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا ہے۔

(جاری ہے)

پولیس نے گاڑی کے ڈرائیور حبیب ظفر کو موقع پر گرفتار کر لیا تاہم بعد ازاں ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ۔۔پولیس نے جاں بحق ہونے والے بچے کو پہلے ہسپتال منتقل کیا جہاں سے ضروری کاروائی کرتے ہوئے نعش ورثاء کے حوالے کر دی ۔ورثاء نے نعش وصول کرکے ضیاء مسجد نیو شکریال کے قریب احتجاجاً ایکسپریس ہائی وے بلاک کردی ایکسپریس ہائی وے بلاک ہونے سے عید منانے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرنے والے شہری پھنس گئے ۔

اہل عرلاقہ کے مطابق فلک شیر مدرسہ میں قرآن حفظ کر رہا تھا اور گزر بسر کے لئے اسلام آباد کے چوکوں پر کلر بک اور بچوں کے کھلونے فروخت کر کے والد کا ہاتھ بٹاتا تھافلک شیر کے 10 بہن بھائی ہیں جن میں یہ بڑا بھائی تھا فلک شیر بہنوں کے لئے چوڑیاں اور مہندی خرید کر دینے کا وعدہ کر کے گھر سے نکلا پر واپس نا آسکانوعمر فلک شیر کے اہل خانہ نے انصاف کے لئے چیف جسٹس سے انصاف کی درخواست کر تے ہوئے کہا کہ ایک گورے کی گاڑی کے نیچے ایک نوجوان آ کر جاں بحق ہو گیا تھا جسکا نوٹس لیا گیا تھا فلک شیر کے والد نے کہا کہ میرا بیٹا بھی اسی طرح کا ایک انسان ہے جو بھی مارا گیا ہے اب ہم کس کا در کھٹکھٹائیں ہم پر قیامت گزر رہی ہے لواحقین نے کہا کہ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو بچوں سمیت سپریم کورٹ کے سامنے خود کشی کر لیں گے جسکی ذمہ دار حکومت ہو گی۔

۔۔۔