سپریم کورٹ نے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی نالے کی صفائی سے متعلق وفاقی ورکس ڈیپارٹمنٹ سے کراچی کا ماسٹرپلان طلب کرلیا

نالے کی حدود بندی کے تنازع کے باعث صفائی نہیں ہو رہی، اگر نالے کی صفائی نہ ہوئی تو پی ای ایس ایچ ایس ڈوبنے کا خطرہ ہے ، حکومتی نمائندوں کا موقف ْگزشتہ بارشیں بھول گئے جب پی ای ایس ایچ ایس سوسائٹی میں کشتیاں چلائی گئیں، جسٹس سجاد علی

جمعرات جون 22:24

سپریم کورٹ نے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی نالے کی صفائی سے متعلق وفاقی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) سپریم کورٹ نے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی نالے کی صفائی سے متعلق وفاقی ورکس ڈیپارٹمنٹ سے کراچی کا ماسٹرپلان طلب کرلیا ہے۔ جمعرات کو سماعت کے موقع پر صوبائی و وفاقی حکومتوں کے نمائندے موجود تھے اور دوران سماعت دونوں نمائندے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔ عدالت عظمی کو بتایاگیاکہ نالے کی حدود بندی کے تنازعے کے باعث صفائی نہیں ہو رہی،کے ایم سی کے وکیل نے بتایاکہ مون سون کا سیزن آنے والا ہے اور صورتحال خراب ہو سکتی ہے اگر نالے کی صفائی نہ ہوئی تو پی ای ایس ایچ ایس ڈوبنے کا خطرہ ہے۔

(جاری ہے)

بینچ کے رکن جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس میں کہاکہ گزشتہ بارشیں بھول گئے جب پی ای ایس ایچ ایس سوسائٹی میں کشتیاں چلائی گئیں۔ جسٹس گلزار احمد نے آبزرویشن میں کہاکہ متعلقہ ادارے سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں نہیں کر رہی,وکیل کے ایم سی نے کہاکہ پی ای ایس ایچ ایس سوسائٹی نالے کی صفائی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے ،سوسائٹی نے ایچ مارکیٹ نالے کی اراضی پر غیر قانونی عمارت بنا دی عدالت کے استفسارپر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی حکام نے بتایاکہ ،ہمارے پاس کراچی کا ماسٹر پلان نہیں،جسٹس گلزاراحمدنے کہاکہ یہ شہر دارالخلافہ رہاہے وفاقی حکومت کے پاس ماسٹر پلان ہوگا،عدالت نے وفاقی ورکس ڈیپارٹمنٹ سے کراچی کا ماسٹر پلان طلب کر لیا۔