افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی غیر مصدقہ اطلاعات

Fahad Shabbir فہد شبیر جمعہ جون 01:48

افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی غیر مصدقہ ..
کابل(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15جون۔2018ء) افغانستان کے علاقے کنٹر میں ڈرون حملے کے نتیجے میں طالبان رہنما ملا فضل اللہ کے ہلاک ہونے کی غیرمصدقہ اطلاعات ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور مقامی حکام اس خبر کی تصدیق کررہے ہیں۔ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 13 جون کو ہونے والے ڈرون حملہ کا ہدف ملا فضل اللہ تھے۔

افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینینٹ کرنل مارٹن او ڈونل کے وائس آف امریکا کو بتایا کہ 13 جون کو امریکی فورسز نے صوبہ کنٹر میں ایک حملہ کیا گیا جس میں ایک دہشت گرد تنظیم کے سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا۔تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس حملے کا ہدف ملا فضل اللہ ہی تھے۔

(جاری ہے)

پینٹا گان حکام نے ڈرون حملہ کامیاب رہا یا نہیں اس پر تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔

جبکہ  امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینینٹ کرنل مارٹن او ڈونل  نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا ہے کہ یہ جنگ بندی امریکی افواج کی انسداد دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ پر لاگو نہیں ہو گی۔ اور امریکی افواج القاعدہ، اسلاملک سٹیٹ اور دیگر دہشتگرد گروپوں کیخلاف کارروائیاں رکھے گی۔ یہ خبر ایک ایسے وقت منظر عام پر آئی ہے جب عید الفطر کے موقع پر افغان حکومت اور طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان نے غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا۔ماضی میں بھی ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبریں سامنے آچکی ہیں۔ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث ہیں۔