افغان صوبہ کنڑ میں امریکی ڈرون حملے میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی اطلاعات

امریکی ڈرون حملے میں پاکستانی سرحد کے قریب افغان صوبے میں ٹی ٹی پی سربراہ کو نشانہ بنایا گیا ْ حملہ افغان طالبان اور حکومتی سیکیورٹی فورسز کے درمیان 7 روزہ جنگ بندی کے معاہدے کے درمیان کیا

جمعہ جون 11:30

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون2018ء) امریکہ دفاعی ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ افغانستان کے صوبے کنڑ میں امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) کے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی فوجی حکام نے انہیں اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی ڈرون حملے میں پاکستانی سرحد کے قریب افغان صوبے میں ٹی ٹی پی سربراہ کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب امریکا کے سرکاری ریڈیو کی جانب سے بھی کہا گیا کہ ڈرون حملے میں ملافضل اللہ کی ہلاکت کے دعوے کی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں۔اس حوالے سے ایک امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدھ کو رات گئے حملہ کیا گیا، جس میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نشانہ تھے لیکن وہ ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کرسکتے۔

(جاری ہے)

ادھر افغانستان میں امریکی فورسز کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل مارٹن او ڈونیل نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ امریکی فورسز نے 13 جون کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کے قریب کنڑ صوبے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائی کی تھی، جس میں کالعدم تنظیم کے سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

پینٹاگون حکام نے کہا کہ وہ اس وقت اس بات کی تصدیق کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔یاد رہے کہ یہ حملہ افغان طالبان اور حکومتی سیکیورٹی فورسز کے درمیان 7 روزہ جنگ بندی کے معاہدے کے درمیان کیا گیا۔اس معاہدے کے تحت افغان شہریوں کو رمضان کے آخری ایام اور عید کو پر امن طریقے سے منانے کی اجازت دی گئی تھی اور کسی طرح کے حملے سے منع کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل کئی بار ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی غیر تصدیق شدہ خبریں آتی رہی ہیں۔