اسلامی اصولوں پر مبنی دنیا کی بہترین ائیرلائن کے آغاز کا اعلان

برطانیہ میں پہلی ایسی ایئر لائن متعارف کروانے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کا تمام آپریشن اسلامی اصولوں کی روشنی میں ہوگا ’’فرناس ایئر ویز‘‘ کے نام سے قائم فضائی کمپنی ابتدائی طور پر برطانیہ کے مختلف شہروں کے درمیان پروازوں کا آغاز کرے گی اپنی نوعیت کی اس پہلی ایئر لائن کا آئیڈیا بنگلا دیشی نژاد32سالہ بزنس مین قاضی شفیق الرحمن نے لندن میں متعارف کروایا ہے

جمعہ جون 11:30

اسلامی اصولوں پر مبنی دنیا کی بہترین ائیرلائن کے آغاز کا اعلان
لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون2018ء) کسی بھی اور کاروبار کی طرح فضائی کمپنیوں کا بھی پہلا مقصد منافع ہوتا ہے۔ آج کے دور میں کون سوچتا ہے کہ اخلاقی اصولوں یا مذہبی تعلیم کی روشنی میں کاروبار کیا جائے، اور خصوصاً فضائی کمپنیوں سے تو یہ توقع کرنا بالکل ہی بے کار ہے۔ حد تو یہ ہے کہ متعدد مسلم ممالک کی بڑی ائرلائنوں کی جانب سے بھی دوران پرواز مسافروں کو شراب پیش کی جاتی ہے۔

تو ایسے میں یہ بات یقیناً حیرتناک ہے کہ برطانیہ میں پہلی ایسی ایئر لائن متعارف کروانے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کا تمام آپریشن اسلامی اصولوں کی روشنی میں ہوگا، یعنی مسافروں کو فراہم کیا جانے والا کھانا حلال ہوگا، شراب پیش نہیں کی جائے گی اور ایئر ہوسٹسوں کا لباس بھی شرم و حیاء کے تقاضوں کے مطابق ہوگا۔

(جاری ہے)

اپنی نوعیت کی اس پہلی ایئر لائن کا آئیڈیا بنگلا دیشی نژاد بزنس مین قاضی شفیق الرحمن نے متعارف کروایا ہے۔

قاضی شفیق الرحمن 32سال کے نوجوان بزنس میں ہیں۔ وہ 1997ء میں بنگلہ دیش سے خالی ہاتھ برطانیہ آئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’فرناس ایئر ویز‘ کے نام سے قائم کی جانے والی ان کی فضائی کمپنی ابتدائی طور پر برطانیہ کے مختلف شہروں کے درمیان پروازوں کا آغاز کرے گی لیکن وہ چاہتے ہیں کہ جلد ہی ان کی ایئر لائن بین الاقوامی پروازوں کا آغاز بھی کر دے۔

قاضی شفیق الرحمن کا کہنا ہے کہ جب وہ برطانیہ آئے تو انہیں پہلی نوکری لندن سٹی ایئرپورٹ پر خاکروب کے طور پر ملی۔ اس دن سے ہی وہ ہوائی جہازوں کی محبت میں مبتلاء ہو گئے اور خواب دیکھنے لگے کہ ایک دن اپنا ہوائی جہاز خریدیں گے۔ انہوں نے اپنی محنت اور اخلاص سے خوب ترقی کی اور اب کروڑ پتی بزنس مین بن چکے ہیں اور وقت آن پہنچا ہے کہ وہ اپنے دیرینہ خواب کو پورا کر سکیں۔

ایک نئی ایئر لائن کی ضرورت کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھامیں ایک برطانوی شہری ہوں لیکن جب بھی آپ سکیورٹی میں سے گزرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے گویا آپ نے کچھ غلط کیا ہو۔ ہرکوئی آپ کی جانب دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ایک مذہبی کلچر کو متعارف کرواسکیں تو یہ ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ یہ نئی ائیرلائن بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ وہ وقت دو ر نہیں جب یہ ائیرلائن دنیا بھر کے بین الاقوامی روٹس پر محو پرواز ہو گی۔