برآمدات میں اضافے کیلئے کامیاب ممالک کے ماڈل سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ‘کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن

مصنوعات کوعالمی مارکیٹوں میں متعارف کرانے کیلئے غیر ملکی کمرشل اتاشیوں کو متحرک کیا جائے ،برآمد کنندگان کو بھی خصوصی سٹیٹس ملنا چاہیے ٹڈیپ نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ‘ چیئرمین لطیف ملک کی زیر صدارت اجلاس میں انڈسٹری کو درپیش مشکلات ، عالمی نمائش کے حوالے سے جائزہ لیا گیا

جمعہ جون 11:40

برآمدات میں اضافے کیلئے کامیاب ممالک کے ماڈل سے استفادہ کرنے میں کوئی ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون2018ء) پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ معیشت کی ترقی کیلئے برآمدات میں اضافہ نا گزیر ہے اوراس کیلئے ہمسایوںسمیت دنیا کے کامیاب ممالک کے ماڈل سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ،پاکستانی مصنوعات کوعالمی مارکیٹوں میں متعارف کرانے کیلئے غیر ملکی کمرشل اتاشیوں کو متحرک کیا جائے جبکہ برآمد کنندگان کو بھی خصوصی سٹیٹس ملنا چاہیے ،ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان نے عالمی نمائشوں کے حوالے سے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے اور یقین ہے کہ رواں سال اکتوبر میں منعقدہ کارپٹ کی عالمی نمائش کی کامیابی کیلئے بھی ہر ممکن مالی تعاون فراہم کیا جائے گا۔

ان خیالا ت کا اظہار ایسوسی ایشن کے چیئرمین لطیف ملک کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا جس میں کارپٹ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سعید خان ، ایگزیکٹو ممبر ریاض احمد، سابقہ چیئرمین میجر (ر) اختر نذیر سمیت دیگر نے شرکت کی ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں کارپٹ انڈسٹری کو درپیش مشکلات اور خصوصاً عالمی نمائش کی تیاریوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ غیر ملکی خریداروں اور مندوبین سے رابطوں کے مثبت اور حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان سے درخواست ہے کہ نمائش کے اخراجات کے سلسلہ میں فنڈز میں اضافہ کر کے ان کا فوری اجراء کرے تاکہ تیاریوں کو تیزی سے آگے بڑھایاجا سکے۔چیئرمین لطیف ملک نے کہا کہ نا مساعد حالات اور مشکلات کی وجہ سے پاکستانی برآمد کنندگان شدید مشکلات کا شکار ہیں ۔ اگر ہم بھارت سے مقابلہ کرنے کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اپنے برآمد کنندگان کو عالمی مارکیٹ میں بھارتی مصنوعات کی قیمتوں اور معیار کے حوالے سے مقابلہ کرنے کیلئے سہولتیں اور مراعات بھی فراہم کرنا ہوں گی ۔معیشت کی ترقی کیلئے برآمدات میں اضافہ نا گزیر ہے اور اگر اس کیلئے ہمسایوں سمیت دنیا کے کامیاب ممالک کے ماڈل کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔