متحدہ عرب امارت: ویزہ شرائط میں تبدیلی ملازموں کے حقوق اور فلاح کی جانب انقلابی قدم قرار

مملکت میں تعینات سفارتی عہدے داروں کی جانب سے فیصلے کا خیر مقدم

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ جون 11:51

متحدہ عرب امارت: ویزہ شرائط میں تبدیلی ملازموں کے حقوق اور فلاح کی جانب ..
دُبئی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15جُون 2018ء) متحدہ عرب امارات کی جانب سے ویزہ اور لیبر قوانین میں بڑی تبدیلیوں کے باعث مملکت میں لیبر سیکٹر کو مربوط و منظم کرنے میں بہت زیادہ مدد مِلے گی اور اس سے ملازموں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے میں بڑی کامیابی حاصل ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار متحدہ عرب امارات میں بڑی تعداد میں افرادی قوت بھیجنے والے ممالک کے سفارتی عہدے داروں نے کیا۔

امارات میں مقیم بھارتی سفیر نودیپ سنگھ سُوری نے کہا ’’ان تبدیلیوں سے امارات میں مقیم بھارتی مزدوروں‘ پیشہ ور افراداورتاجر طبقے پر معاشی بوجھ کو کم کرنے میں بہت مدد مِلے گی۔ ان تبدیلیوں سے متحدہ عرب امارات کی قیادت کی ترقی پسندانہ اور مثبت سوچ کا پتا چلتا ہے جس سے وہ مُلک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر کے استحکام بخشنا چاہتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہی فلاح و بہبود پر مبنی پالیسیوں کی بناء پر ہی بھارت کے سرمایہ دار اور مزدور بڑی تعداد میں امارات کا رُخ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ابوظہبی میں موجود سری لنکن سفارت کار سِسرا سینے وِرَتنے نے اماراتی حکام کی جانب سے ویزہ اور لیبر پالیسی میں تبدیلیوں کو ورکرز کی بھلائی اور بھرتی کے طریقہ کار میں بہتری کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔

انہوں نے انشورنس سسٹم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ورکرز کے لیے بینک گارنٹی جیسی کڑی شرط کا خاتمہ ہو جائے گا ‘ تاہم اس حوالے سے ابھی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ یہ تبدیلیاں ہر ایک کے لیے بہت مفید ثابت ہوں گی۔ اس سے لیبر سے متعلق تنازعات میں بہت کمی واقع ہو گی اور ان تنازعات کو تیزی سے حل کرنا بھی ممکن ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ وہ لوگ جو ویزوں کی مُدت سے زائد عرصہ قیام پذیر رہنے کے باعث عائد کیے جانے والا بھاری جرمانہ ادا نہ کر سکنے پر امارات میں قیدی بن کر رہ جاتے تھے‘ اُن کے لیے قوانین میں تبدیلی سُکھ کا سانس ثابت ہو گی۔

دُبئی میں واقع پاکستانی قونصلیٹ میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشی اسماء علی کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں کے باعث امارات کی سرزمین ورکرز کے لیے اور زیادہ سازگار بن جائے گی‘ اس سے یہاں کی معیشت کو مضبوطی مِلے گی اور یہ جگہ سیاحوں کے لیے جنت بن جائے گی۔ ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کے باعث ایکسپو 2020ء کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بہت مدد مِلے گی۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ ویزے کی مُدت سے زائد قیام پر عائد کیے جانے والے جرمانے کے خاتمے کو بہت سراہتے ہیں کیونکہ یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔ اس کے علاوہ امارات میں کچھ افراد کے دوبارہ داخلے پر پابندی بھی ختم ہو گئی ہے جس سے پاکستانی ورکرز اور فیملیوں کی بڑی تعداد کو فائدہ پہنچے گا۔ بینک گارنٹی کے خاتمے اور دوبارہ داخلے کی اجازت دینے سے متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں پاکستانی لیبرز کی تعداد میں بڑا اضافہ دیکھنے کو مِلے گا۔