متحدہ عرب امارت: کیا متحدہ عرب امارات میں ڈرائیونگ کے لیے رفتار کی حد میں تبدیلی ہونے جا رہی ہے؟

پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان نے ڈرائیورز کو مخمصے میں ڈال دِیا

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ جون 12:21

متحدہ عرب امارت: کیا متحدہ عرب امارات میں ڈرائیونگ کے لیے رفتار کی حد ..
فجیرہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15جُون 2018ء) متحدہ عرب امارات میں ٹریفک کے منظم اور مؤثر قوانین موجود ہیں۔ اس کے علاوہ رفتار کی حد کے حوالے سے بھی احکامات واضح ہیں۔ مملکت میں ٹریفک کی خلاف ورزی کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ہر سال ڈرائیورز حضرات پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی‘ رفتار کی حد سے تجاوز کرنے‘ سڑکوں پر غیر قانونی ریس لگانے اور دُوسروں کی زندگیوں کو خطروں میں ڈالنے والوں پر بطور سزا بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں نیز کئی ڈرائیوروں کو گاڑی کی ضبطی کے علاوہ جیل کی ہوا بھی کھانی پڑتی ہے۔

حال ہی میں فجیرہ پولیس کی جانب سے ڈیپارٹمنٹ کے اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’فجیرہ قِدفہ روڈ پر رفتار کی حد متعین نہیں کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اگر اس روڈ پر رفتار کی حد میں کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہے تو آپ کو وقت سے پیشتر اس بارے میں آگاہ کر دیا جائے گا۔ ہم دُعاگو ہیں کہ آپ کا سفر محفوظ اور خوشگوار ہو۔‘‘ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے اس بیان سے متحدہ عرب میں مقیم افراد کی جانب سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ فجیرہ پولیس کی طرف سے رفتار کی حد کے متعین نہ ہونے سے متعلق بیان شاید ٹریفک قانون میں کسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔

اگرچہ اس حوالے سے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کوئی تفصیلات تو سامنے نہیں آ سکیں مگر لوگ سوچ رہے ہیں کہ شاید متحدہ عرب امارت کے تمام روڈز پر بتدریج ڈرائیونگ کی رفتار کی حد میں تبدیلی لائی جائے گی۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں تیز رفتاری کے باعث حادثات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جن میں بہت سے لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں جبکہ کئی مستقل معذوری کا شکار ہو گئے ہیں۔ کچھ افراد کا سوچنا ہے کہ حکومت حادثات میں کمی لانے کے لیے رفتار کی حد گھٹانے پر غور کر رہی ہے۔ فی الحال اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا اور اگلے چند روز میں ہی واضح ہو گا کہ آیا حکومت نے رفتار کی حد کو از سرِ نو متعین کرنے کا کوئی فیصلہ لیا ہے یا پھر پُرانی والی حدِ رفتار ہی قائم رہے گی۔