پنجاب میں کس جماعت کی پوزیشن مضبوط ہے؛ سروے نے سب بتا دیا

پنجاب پر ن لیگ کا راج ابھی بر قرار، تحریک انصاف دوسرے نمبر پر ہے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ جون 13:12

پنجاب میں کس جماعت کی پوزیشن مضبوط ہے؛ سروے نے سب بتا دیا
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔15جون 2018ء) معروف صحافی و تجزیہ نگار حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 141 حلقے ہیں۔حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ میں نے پنجاب کے 4 اضلاع کے علاوہ پورے پنجاب کا سروے کیا ہے۔اور اس سروے رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ابھی بھی ن لیگ کی پوزیشن مضبوط ہے۔۔پنجاب میں ن لیگ کے جیتنے کے چانسز 52 فیصد ہیں۔جب کہ پاکستان تحریک انصاف پنجاب میں دوسرے نمبر پر ہے۔

پاکستا ن تحریک انصاف پنجاب سے 39فیصد ووٹ لے گی تا ہم حیران کن بات یہ ہے کہ 2013 کے انتخابات میں جب پنجاب میں سروے کیا گیا تو ان سروے رپورٹس کے مطابق پنجاب میں تحریک انصاف کے جیتنے کے چانسز 28فیصد تھے۔اور ن لیگ کے جینے کے چانسز60 فیصد تھے۔تو اگر پنجاب میں 2018کے سروے کا 2013 کے سروے سے موازنہ کریں تو میرے خیال سے ن لیگ کی یہاں پوزیشن کمزور ہوئی ہے جب کہ تحریک انصاف کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے تاہم ابھی بھی ن لیگ مضبوط ہے۔

(جاری ہے)

پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پوزیشن بہت کمزور ہے جب کہ دیگر پارٹیوں کے جیتنے کے چانسز 8فیصد ہیں۔تاہم 25جولائی تک حالات بدل سکتے ہیں اور کچھ بھی ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ ملک بھر میں 25جولائی کو عام انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے۔تمام سیاسی پارٹیاں الیکشن میں جیتنے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں اور امیدواروں کے نام فائنل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

نہ انتخابات ملکی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات ہوں گے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 25 جولائی 2018 ء کو ہونے والے عام انتخابات پاک فوج کی زیر نگرانی ہوں گے۔جب کہ عام انتخابات کے دوران سیکیورٹی خدشات بھی موجود ہیں جس کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز 22جولائی اتوار کے روز ہی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی۔ پنجاب میں چھ ہزار پولنگ اسٹیشن حساس قرار دئیے جا چکے ہیں۔

پنجاب سمیت ملک بھر میں کے حساس پولنگ اسٹیشنوں پر کلوز سرکٹ کیمرے بھی لگوائے جائیں گے۔عام انتخابات میں سیکیورٹی کے حوالے خاص انتظامات کیے گئے ہیں۔ 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات ملکی تاریخ کے سب سے مہنگے اور سب سے بڑے انتخابات ہوں گے۔2018کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 2018کے انتخابی اخراجات کا تخمینہ21ارب ہے۔