متحدہ عرب امارات: عمر رسیدہ ڈرائیورز رمضان میں سب سے زیادہ حادثات کا نشانہ بنتے ہیں

سرکاری ادارے کی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ جون 13:51

متحدہ عرب امارات: عمر رسیدہ ڈرائیورز رمضان میں سب سے زیادہ حادثات کا ..
دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15جُون 2018ء) آج متحدہ عرب امارات میں عید منائی جا رہی ہے۔۔رمضان المبارک اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ادارے روڈ سیفٹی کی جانب سے ایک سروے رپورٹ پیش کی گئی ہے جس کے مطابق سال بھر میں سب سے زیادہ ٹریفک حادثات رمضان کے مہینے میں رونما ہوتے ہیں۔جبکہ نوجوانوں کے مقابلے میں 40 سال سے اُوپر کے ڈرائیور حضرات ان حادثات کا باعث ہوتے ہیں۔

جبکہ 30سے 35 سال کی عمر کے لوگ گاڑی چلانے میں احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خواتین کے مقابلے میں مرد ٹریفک حادثات کا زیادہ نشانہ بن رہے ہیں۔ سب سے زیادہ ٹریفک حادثات صبح کے وقت سڑکوں پر اُس وقت ہوتے ہیں جب لوگ دفتر اور اپنے کام کی جگہ پر پہنچنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ گھر سے دیر سے نکلتے ہیں جس کے باعث وقت پر پہنچنے کی کسر وہ تیز رفتاری یا غفلت سے ڈرائیونگ کی صورت میں پُوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

رمضان المبارک کے دوران زیادہ تر حادثات منگل کے روز ہوتے ہیں جبکہ سب سے کم ہفتہ کے روز ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق رمضان المبارک کے دوران ہونے والے حادثات میں بھارتیوں کا حصّہ 47 فیصد‘ امارتی شہریوں کا 14 فیصد جبکہ پاکستانیوں کا 12 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ مصری اور اُردنی بھی بالترتیب 6 فیصد اور 3فیصد ان حادثات کا نشانہ بنے۔

اس کے علاوہ دُوسری قومیتوں سے تعلق رکھنے والوں کا حصّہ 18 فیصد کا بنتا ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں سب سے زیادہ حادثات افطاری کے وقت رُونما ہوتے ہیں جب شہری گھر پہنچ کر اپنے گھر والوں کے ساتھ روزہ افطار کرنے کی چاہ میں تیز رفتاری سے گاڑی چلا کر اپنے ساتھ دُوسرے لوگوں کی جان بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کو احتیاط سے گاڑی چلانی چاہیے‘ تمام ڈرائیور حضرات کو صبح کے وقت بھیڑ کے اوقات میں خاص خیال رکھنا چاہیے جبکہ مرد ڈرائیور حضرات کو اپنے ڈرائیونگ کے انداز پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق روزے کی حالت میں شدید گرمی کے دوران جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور شوگر لیول گِر جاتا ہے‘ جس کے باعث ہماری توجہ ‘ نظر‘ دھیان اور ردِعمل کی صلاحیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈرائیونگ کے دوران تھکاوٹ‘ بے صبری اور توجہ کا اختلال بھی حادثات کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے لوگوں کو احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے اگر وہ عین افطار کے وقت بھی گھر نہ پہنچ سکیں تو کوئی بات نہیں۔ مگر جلد بازی کا مظاہرہ کر کے اپنی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔