پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ ڈرون حملے میں ہلاک

افغان وزارت دفاع نے ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جون 13:56

پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ ڈرون حملے میں ہلاک
کابل (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 15 جون 2018ء) :فغانستان کے علاقے کنٹر میں ڈرون حملے کے نتیجے میں طالبان رہنما ملا فضل اللہ کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو گئی۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق افغان وزارتِ دفاع کے حکام نے صوبہ کنّڑ میں امریکی فوج کی کارروائی میں پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔وزارتِ دفاع کے ترجمان محمد ردمنیش نے بی بی سی کو بتایا کہ ملا فضل اللہ کو 13 جون کو کنّڑ میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔

افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل مارٹن اوڈونل کی جانب سے جمعرات کی شب ایک بیان جاری گیا تھا جس میں کہا گیا کہ 13 اور 14 جون کی شب امریکی فوج نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک کارروائی کی۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کا ہدف دہشت گرد قرار دی گئی ایک تنظیم کا سینیئر رہنما تھا تاہم اس وقت امریکی فوج کی جانب سے کارروائی اور اس میں نشانہ بنائے جانے والے افراد کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

۔پینٹا گان حکام نے ڈرون حملہ کامیاب رہا یا نہیں اس پر تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔جبکہ امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینینٹ کرنل مارٹن او ڈونل نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا ہے کہ یہ جنگ بندی امریکی افواج کی انسداد دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ پر لاگو نہیں ہو گی۔ اور امریکی افواج القاعدہ،، اسلاملک سٹیٹ اور دیگر دہشتگرد گروپوں کیخلاف کارروائیاں رکھے گی۔

یہ خبر ایک ایسے وقت منظر عام پر آئی ہے جب عید الفطر کے موقع پر افغان حکومت اور طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان نے غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا۔ ماضی میں بھی ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبریں منظر عام پر آتی رہی ہیں، تاہم اب افغان حکام نے ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔ یاد رہے کہ ملا فضل اللہ کا ایک بیٹا بھی رواں برس مارچ میں ڈرون حملے میں ہی مارا گیا تھا۔