پرویزمشرف کے وطن واپس نہ آنے کی وجوہات سامنے آ گئیں

پرویز مشریف چاہتے تھے کہ انہیں تمام مقدمات میں ضمانت دی جائے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ جون 14:24

پرویزمشرف کے وطن واپس نہ آنے کی  وجوہات سامنے آ گئیں
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔15جون 2018ء) سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کو پاکستان واپس آنے کی صورت میں مکمل تحفظ دینے کی یقین دہانی کروائی تھی جب کہ پرویز مشرف کو الیکشن لڑنے کی بھی اجازت دے دی تھی۔تاہم پرویز مشرف عدالت میں پیش نہ ہوئے جس کے بعد سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا عبوری حکم واپس لے لیا تھا۔

اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے راجہ عامر عباس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے مشرف کو اتنی سہولت د تھی کہ ان کو ائیرپورٹ سے عدالت تک گرفتار نہیں کیا جائے گا،وہ عدالت آئیں اور اپنے مقدمات کا سامنا کریں تاہم پرویز مشرف پاکستان نہیں آئے کیونکہ پرویز مشرف چاہتے تھے ان پر اس وقت جتنے بھی مقدمات چل رہے ہیں ان میں ضمانت دی جائے اور تما م مقدمات میں ضمانت ہونے کے بعد وہ پاکستان آئیں۔

(جاری ہے)

مشرف سمجھتے تھے کہ وہ پریشر ڈال کر شاہد کوئ ڈیل کروانے میں کامیاب ہو جائیں۔ ساتھ میں مشرف نے یہ بھی سوچا کہ اب الیشکن میں کچھ دن ہی رہ گئے ہیں تو پاکستان آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ اتنے کم دنوں میں وہ انتخابات کے لیے کوئی خاص مہم بھی نہیں چلا سکیں گے۔اس لیے انہوں نے فی الحال پاکستان سے باہر رہنے کا ہی فیصلہ کیا ہے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سابق صدر پرویز مشرف کی طلبی سے متعلق کیس کیسماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا عبوری حکم واپس لے لیا۔ سماعت کے دوران پرویز مشرفکے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف واپس نہیں آرہے۔ وکیل نے کہا کہ پرویز مشرف وطن واپس آنا چاہتے ہیں لیکن موجودہ حالات اور چھٹیوں کی وجہ سے نہیں آرہے۔ جس پر سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا عبوری حکم واپس لے لیا۔