امریکی اعلان کے بعد شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی مذاکرات

کم جونگ ان کی امریکی صدر سے تاریخی ملاقات تصفیہ کی طرف پہلا قدم ہے اور میں اس ملاقات پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک ممکنہ منفی منظر نامے کو ختم کردیا۔

جمعہ جون 15:24

سیئول/ماسکو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی مشترکہ مشقوں کو روکنے کی منصوبہ بندی کے بعد شمالی اور جنوبی کوریا کے ٹو اسٹار جنرلز کے درمیان فوجی مذاکرات ہوئے، تاہم دونوں ممالک کسی ٹھوس معاہدے پر پہنچنے میں ناکام ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے میں پہلی مرتبہ ہونے والے مذاکرات غیر فوجی زون میں پان منجوم کے سرحدی گاؤں میں منعقد ہوئے۔

خیال رہے کہ یہ مذاکرات اپریل میں ہونے والی انٹر کورین سمٹ کے نتیجے میں منعقد ہوئے، جس میں دونوں کورین رہنما کشیدگی اور ’ تمام دشمن کارروائی ‘ ختم کرنے پر راضی ہوئے تھے۔دنوں ممالک کے درمیان ہونے والے فوجی مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک 2004 کے معاہدے پر عمل درآمد کرنے پر راضی ہوئے ہیں، جس کے تحت دونوں اطراف کی افواج نے مغربی سمندر میں غیر متوقع تصادم کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ انہوں نے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ہاٹ لائن کے قیام کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا لیکن وہ اس کی بحالی کے لیے مخصوص ٹائم ٹیبل بنانے میں ناکام رہے۔۔مذاکرات کے بارے میں جنوبی کوریا کے مذاکرات کار اور وزارت دفاع میں شمالی کوریا کی پالیسی پر نظر رکھنے والے کم ڈو گیون کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے وزارتی سطح پر ملاقات کے حوالے شیڈول ملاقات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا، تاہم اس بارے میں مشترکہ بیان میں نہیں بتایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے مختلف معاملات کی نوعیت ایک ملاقات میں حل نہیں کی جاسکتی۔ادھر شمالی کوریا کے وفد کے سربراہ آہن اک سان کا کہنا تھا کہ ’ کچھ وجوہات‘ کی وجہ سے مذاکرات میں تاخیر کا سامنا رہا جبکہ انٹر کوریا سمٹ کی روح اور باہمی افہام و تفہیم کی بنیاد پر دونوں ممالک مستقبل میں رکاوٹیں دور کریں گی-واضح رہے کہ سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کے درمیان تاریخی ملاقات کے بعد امریکی صدر کا ایک بیان سامنے ا?یا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ ’ مہنگے، اشتعال انگیر‘ جنگی کھیل کو روک دے گا۔

اس بارے میں جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا پر فوجی دباؤ ا?نے کے بعد ان کی حکومت کولچکدار ہونا پڑے گا۔دوسری جانب روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے شمالی کوریا کے حکام کے ذریعے کم جونگ ان کو دعوت دی ہے کہ وہ روس کا دورہ کریں۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کم جونگ ان کی امریکی صدر سے تاریخی ملاقات تصفیہ کی طرف پہلا قدم ہے اور میں اس ملاقات پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک ممکنہ منفی منظر نامے کو ختم کردیا۔