سردی میں گرمی اور گرمی میں سردی

بھارت کا ایسا شہری جو موسم کی شدت بآسانی برداشت کر سکتا ہے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جون 15:20

بھارت (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 15 جون 2018ء) : سردی ہو یا گرمی ۔۔ موسم کی شدت سے کوئی بھی انسان کم ہی بچ پاتا ہے لیکن بھارت کے ایک گاؤں میں ایک ایسا شہری بھی موجود ہے جو موسم کی شدت کو بآسانی برداشت کر سکتا ہے۔ بھارتی شہر ہریانہ کے ایک شہری سانتا رام کی کہانی نے سب کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ سانتا رام کو گرمی میں سردی لگتی ہے جبکہ سردی میں پسینے چھُوٹ جاتے ہیں۔

سانتا رام نے بھارتی اخبار کو بتایا کہ مجھے بچپن سے ہی اس کیفیت کا سامنا ہے۔ میں نے 1976ء میں میٹرک پاس کیا، جب میں پڑھائی کرتا تھا تب بھی میرے ساتھ ایسے ہی ہوتا تھا کہ مجھے سردی میں گرمی لگتی تھی اور گرمی میں بے حد سردی لگتی تھی۔ اب موسم ایسا ہے کہ سب لوگوں کو گرمی لگ رہی ہے اور گرمی سے بُرا حال ہے لیکن مجھے بے حد سردی لگ رہی ہے اور میں لحاف لپیٹ کر بیٹھا ہوا ہوں۔

(جاری ہے)

سانتا رام کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں جب دھوپ نکلتی ہے تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں،دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں جب سب لوگوں کو سردی لگتی ہے اور سب موسم کی شدت سے ٹھٹھر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت مجھے گرمی لگ رہی ہوتی ہے۔ دسمبر اور جنوری میں گرمی لگنے پر میں دن میں تین سے چار مرتبہ نہا کر اپنی گرمی مٹانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن گرمی نہیں ختم ہوتی۔

پھر میں برف کھا کر برف پر لیٹ کر سکون لینے کی کوشش کرتا ہوں۔ گرمی کے اس موسم میں سانتا رام لحاف لپیٹ کر لکڑیوں کو آگ لگا کر اس آگ کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور حرارت لے کر اپنے سردی دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سانتا رام کے ایک ساتھی نے بتایا کہ ہم نے بچپن سے ہی اس کو ایسے دیکھا ہے۔ بچپن میں ہم سردی میں ٹوپی پہن کر اور خود کو گرم کپڑوں میں ڈھک کر جایا کرتے تھے لیکن سانتا رام تب بھی ایسے ہی اسکول جاتا تھا جیسے بہت گرمی ہو۔ جبکہ گرمیوں میں اسکول میں مفلر باندھ کر جاتا تھا۔ سانتا رام کی کہانی نے سب کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔

متعلقہ عنوان :