سردیوں میں اسموگ ، گرمیوں میں گرد کا طوفان

فضائی آلودگی میں سانس لینا مشکل ، شہریوں کو وارننگ جاری

جمعہ جون 16:03

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون2018ء) سردیوں میں اسموگ کے بعد اب گرمیوں میں گرد کا طوفان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے شہریوں کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہے ، فضائی آلودگی کا باعث بننے والی اس گرد میں کیمیائی مواد کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے پیش نظر شہریوں کو وارننگ بھی جاری کر دی گئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ کی وجہ سے موسم سرما میں سموگ کے بعد اب موسم گرما میں گرد کے طوفان آنے کا خطرہ درپیش ہوگیا ہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بارشیں نہ ہوئیں تو خشک موسم اور زمین پر نمی کی کمی کے باعث گرد کے طوفان کا چیلنج شدت اختیار کرسکتا ہے اورسموگ کی طرح ہمیں گرمیوں میں ''ڈسٹ سٹارم'' نامی ایک اور آفت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی شدت تاحال کم ہے ۔

(جاری ہے)

گزشتہ روز لاہور میں 28کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گرد آلود ہوائیں چلتی رہیں اور فضا میں گرد کے ذرات معلق رہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان 10ممالک میں ہوتا ہے جو گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہیں اور اس کے اثرات اب مزید گہرے ہو رہے ہیں ، گلوبل وارمنگ کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،خشک سالی،غذائی قلت جیسے چیلنجز کا سامنا درپیش ہے ۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں گلوبل وارمنگ کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے ، گرد کے طوفان سے املاک کے ساتھ جانی نقصان کا خطرہ بھی درپیش ہو گا ، اس سے بالخصوص دمے کے مریض سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ، ائیرو سول بیماریوں میں بھی اضافہ ہوگا، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے یہ جنوب مشرق کی جانب سے آنے والی ہوائیں ہیں جہاں صحرا بھی ہے جس کے باعث ان ہواں میں گرد کے ذرات کی تعداد زیادہ ہے۔

فضائی آلودگی میں شہریوں کو سانس لینے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے جس کے پیش نظر شہریوں کو ماسک پہننے کی ہدایات بھی جا ری کر دی گئی ہیں تاکہ ان گرد آلود ہواں میں کوئی کیمیائی مواد ہے تو اس سے بچا جا سکے۔۔