متحدہ عرب امارات میں عید الفطر منانے کے لیے نو مسلم افراد پُرجوش

اسلام قبول کرنے کے بعد پہلی عید کو یادگار قرار دے دِیا

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ جون 16:25

متحدہ عرب امارات میں عید الفطر منانے کے لیے نو مسلم افراد پُرجوش
دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15جُون 2018ء) نو مسلموں کے لیے عید الفطر کا دِن زرق برق پہناووں اور چٹ پٹے کھانوں کے ڈھیر سے بھی بڑھ کر کچھ خاص ہے۔ رمضان کے مہینے میں کردار سازی‘ روحانی رفعتیں سمیٹنے اور قرآن مجید سے ناتا جوڑنے کے بعدکامیابی سے روزے رکھنے کے بعد نومسلموں کے لیے یہ خوشی منانے کا موقع ہے۔ خاص طور پر اُن کے لیے جو اسلام کی روشنی سے بہرہ ور ہونے کے بعد بطور مسلمان پہلی بار عید الفطر منا رہے ہیں۔

برطانوی شہری ڈیرن سٹریٹ کا کہنا ہے کہ عید الفطر کا تہوار درحقیقت گُزرے ہوئے رمضان کے سفر پر ایک نگاہ ڈالنے کا موقع ہے کیونکہ اس مقدس مہینے کے دوران اُس کی شخصیت ایمان کے نُور سے اُس کی توقع سے کہیں زیادہ بھر گئی اور وہ جسمانی طور پر خود کو ہلکا پھُلکا محسوس کیا ہے۔

(جاری ہے)

اس کا مزید کہنا تھا کہ ’’میرے نزدیک‘ عید کا تہوار اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ خوشی منانے کا بہترین موقع ہے۔

میں اس حوالے سے بہت پُرجوش ہوں کہ میں ایک نئی رُوٹین پر کس طرح کا ردِعمل ظاہر کروں۔‘‘ حال ہی میں مسلمان ہونے والے جنوبی افریقن جوڑے لوئیس اور لائقہ کے مطابق عید کا دِن اُن کا سال بھر کا سب سے عمدہ دِن ہو گا۔ اس موقع پر لائقہ نے کہا ’’رمضان ہمارے لیے ایک رحمت تھی اور عید الفطر کا موقع رمضان کے روزوں کو کامیابی سے رکھنے کے بعد اس بات کی خوشی منانے کا مہینہ ہے۔

اس دِن کو میں اپنے محبوب ترین شخص کے ساتھ مزیدار ڈِشیں پکانے‘ اُسے تحفے دینے‘ اُس کے ساتھ باہر جانے اور اپنا خوبصورت حجاب اور عبایہ پہننے میں صرف کروں گی۔ عید منانے کا یہی طریقہ ہے جو مسلمان کو خوشی اور اطمینان بخشتا ہے۔‘‘ جنوری 2018ء کو اسلام قبول کرنے والی لائقہ نے مزید کہا کہ’’ہم لوگوں کو بتائیں گے کہ ہمارے مذہب میں کتنی آسانیاں ہیں۔

ہم باہر جائیں گے اور ہر اُس طریقے سے خوشی منائیں گے جس کی ہماری شریعت میں مناہی نہیں ہے۔ ہماری عید کی خوشیاں اصلی ہونی چاہئیں‘ یہ صرف لباس پہننے‘ پرفیوم لگانے اور مبارک باد دینے کے لیے نہیں ہے‘ بلکہ وہ عید ہونی چاہیے جس میں اللہ نے ہمارے گناہوں کو معاف فرما دیا ہے‘ جہاں اُس نے ہماری عبادت کو قبول کر لیا ہے۔ہر شخص کو خدا سے وعدہ کرنا چاہیے کہ وہ اس عید پر کوئی ایسا غلط کام نہیں کرے گا جو اللہ کے غضب کو دعوت دے اور وہ ہم سے ناراض ہو جائے۔

اسی دوران ہم یہ بھی یاد رکھیں گے کہ عید پر اور ساری چیزوں کے علاوہ کھانا پینا بھی ہے‘ مگر طمع کے ساتھ نہیں۔‘‘ عید کے اس پُرمسرت موقع پر بہت سارے لوگ اپنے گھر والوں کے ساتھ عید منا رہے ہیں مگر بہت سے غیر مُلکی رنجیدہ ہیں کہ وہ خوشی کے اس موقع پر اپنے پیاروں سے دُور رہنے پر مجبور ہیں۔ بھارت سے تعلق رکھنے والی 31 سالہ نو مسلم خاتون عائشہ امین جس نے محض دو دِن پہلے اسلام قبول کیا ہے‘ کچھ پریشان دکھائی دے رہی تھی کہ وہ اس بار عید اکیلے ہی گُزارے گی‘ کیونکہ اُس کے خاوند کا ورک کنٹریکٹ ختم ہونے کے باعث اُسے واپس بھارت جانا پڑ گیا ہے۔

امارات میں عید کی خوشیوں میں اُس کے ساتھ شریک ہونے کے لیے خاندان کا کوئی دُوسرا فرد موجود نہیں ہے۔ مگر عائشہ نے رمضان کے آخری دس دن سحری اور افطار کے اوقات اپنے گھر کے قریب ایک مسجد میں گُزارے ہیں‘ جہاں بہت سی مسلم خواتین اُس کی دوست بن گئیں جنہوں نے اُسے عید کی خوشیاں اپنے ہاں منانے کی دعوت دی ہے۔ نو مسلم افراد کے لیے اسلامک انفارمیشن سنٹر کی جانب سے عید کے روز صبح کے وقت خصوصی اجتماع کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس تقریب کا نام ’وَن فیملی‘ (ایک خاندان) رکھا گیا ‘اس تقریب میں کئی تفریحی سرگرمیوں اور کھیلوں کا بندوبست کیا گیا ۔ جبکہ نومسلمین کو مزے دار ڈِشز کھلانے کے علاوہ تحفوں سے بھی نوازا گیا ۔

متعلقہ عنوان :