شجاعت بخاری کے قتل میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے، مشاہدین

جمعہ جون 16:40

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون2018ء) کشمیر کی صورتحال پر نگاہ رکھنے والے کئی افراد نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹوں اور تحریروں کے ذریعے کشمیری صحافی شجاعت بخاری کے قتل کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے ہیںاور اس واقعے کا ماسٹر مائنڈ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کو قرار دیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شجاعت بخاری پر حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب محض چند گھنٹے قبل جنیوا میںقائم اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے دفتر سے مقبوضہ کشمیر میںانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ جاری کی گئی اور ان خلاف ورزیوں کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

شجاعت بخاری نے قتل سے پہلے یہ رپورٹ سوشل میڈیا پر مشتہر کی تھی ۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ بھارت پہلے ہی مسترد کر چکا تھا۔

(جاری ہے)

شہید صحافی اپنی تحریروں اور عالمی کانفرنسوں میں اپنی تقاریر میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ تواتر کے ساتھ اٹھاتے رہے ۔ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے ایک پر امن عمل شروع کرنے کی بھر پور وکالت کرتے تھے اور بھارت پر زور دیتے تھے کہ وہ ہٹ دھرمی ترک اور کشمیریوں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال بند کرے۔

وہ ان کشمیری مصنفین میں سے ایک تھے جو مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی پر بھارت پر مسلسل تنقید کرتے ہیں۔کشمیر کی صوتحال پر نظر رکھنے والوںکا کہنا ہے کہ شجاعت بخاری کی طرح ماضی میں قتل ہونے والے کئی صحافیوں اور دانشوروں کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ان کے قتل میں بھارتی ایجنسیاں ملوث تھیں۔