آئین کو بچانے کیلئے اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ضروری ہے ، متحدہ مجلس عمل آئین میں موجود اسلامی دفعات کی حفاظت کرے گی

اور ملک میں آئین کی سربلندی اور حقیقی معنوں میں اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی ،ملک میں آئین کی بالادستی کے لیے قوم کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی، لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر اسلام کے نام پرحاصل کئے گئے ملک میں کفر کا نظام چل رہاہے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا جامع مسجد منصورہ میں جمعتہ الوداع کے بڑے اجتماع سے خطاب

جمعہ جون 17:31

آئین کو بچانے کیلئے اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ضروری ہے ، متحدہ مجلس ..
ْلاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ آئین کو بچانے کیلئے اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ضروری ہے ، متحدہ مجلس عمل آئین میں موجود اسلامی دفعات کی حفاظت کرے گی اور ملک میں آئین کی سربلندی اور حقیقی معنوں میں اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی ،ملک میں آئین کی بالادستی کے لیے قوم کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی، لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر اسلام کے نام پرحاصل کئے گئے ملک میں کفر کا نظام چل رہاہے ۔

جمعہ کو جامع مسجد منصورہ میں جمعتہ الوداع کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آئین کو بچانے کیلئے اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ضروری ہے ، ملک میں آئین کی بالادستی کے لیے قوم کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی، لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر اسلام کے نام پرحاصل کئے گئے ملک میں کفر کا نظام چل رہاہے ، عدالتوں میں قرآن کا نظام ہے نہ معیشت اور سیاست اسلامی ہے ۔

(جاری ہے)

تعلیم میں ابھی تک لارڈ میکالے کا نظام چل رہاہے ۔ سود کی وجہ سے پورا معاشی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاہے اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مہرے اس نظام کو مسلط رکھنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں جبکہ ابلیسی قوتیں پوری طرح ان کی سرپرستی کر رہی ہیں ۔۔رمضان المبارک ہمیں اس باطل نظام کیخلاف ڈٹ جانے اور اللہ کے نظام کے غلبہ کی دعوت دیتاہے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل آئین میں موجود اسلامی دفعات کی حفاظت کرے گی اور ملک میں آئین کی سربلندی اور حقیقی معنوں میں اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ سیکولر اور لبرل لابی آئین سے اسلامی دفعات کو نکال کر اسے خالص سیکولر آئین بنانے کی سازش کررہی ہے، اس موقع پر قوم کو بیدار رہتے ہوئے ان سازشوں کو ناکام بناناہوگا ۔

جو لوگ ملک میں باطل نظام کو مسلط رکھنا چاہتے ہیں ، انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ 2018 ء کا انتخابی معرکہ پاکستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت کا معرکہ ہے ۔ عوام اس معرکے کوحق و باطل کا معرکہ سمجھ کر گھروں سے نکلیں اور متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو کامیاب کروائیں ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل ملک میں نظام مصطفیؐ کے نفاذ کی جدوجہد کررہی ہے ۔

عوام اس جہاد میں اپنے ووٹوں کی قوت سے شریک ہوں ۔ فرعونی نظام نے عوام کو ستر سال سے غلام بنا رکھاہے اور لوگ خواہش کے باوجود اسلام کے مطابق زندگی گزارنے سے محروم ہیں ۔ تعلیمی اداروں ، عدالتوں ، معیشت اور حکومت ، ہر جگہ باطل نظام مسلط ہے ۔ انہوںنے کہاکہ قرآن کریم محض تلاوت کی کتاب نہیں ۔ یہ اللہ کی حاکمیت قائم کرنے کا تقاضا کرتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اللہ کا نظام غالب کرنے کے لیے ہر دور کے فرعون کے مقابلے میں موسیٰ ؑ اور نمرود کے مقابلے میں ابراہیم ؑکو کھڑا ہونا پڑا۔ حق کے غلبہ کے لیے پاکستان کے عوام کو متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دینا ہوگا ۔