نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ڈبلیو ایس ایس میں عوامی شکایات کے فوری ازالے کا طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت

پانی کے غیر قانونی کنکشن کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیاجائے ، پانی آئندہ نسلوں کی امانت ہے اس کی حفاظت کی جائے، خطاب

جمعہ جون 18:38

نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ڈبلیو ایس ایس میں عوامی شکایات کے ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون2018ء) نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس(ر) دوست محمد خان نے واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور میں عوامی شکایات کے فوری ازالے کا طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ غریب عوام کو خدمات کی بلا تعطل فراہمی کیلئے کڑی نگرانی ہونی چا ہیے ،،پانی کے غیر قانونی کنکشن کی رجسٹریشن کا عمل تیز رفتاری سے مکمل کریں، پانی کے تحفظ کیلئے اقدامات کی بھی ہدایت ، اس مقصد کیلئے میڈیاکے استعمال، عوامی مقامات پر اشتہارات اور دیگر قابل عمل ذرائع بروئے کار لایاجائے ،اس عظیم قدرتی نعمت کا تحفظ ترجیحات میں سر فہرست ہونا چا ہیے ۔

جمعے کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میںواٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی طرف سے کمپنی کے بارے میں دی گئی بریفنگ میں ہدایت کے دوران کیا وزیر اعلیٰ کو کمپنی کے ویژن ، مشن ، سروس ایریا، سکوپ، اختیارات اور کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ،نگران وزیر اعلیٰ نے کمپنی کو پانی کے تحفظ کیلئے اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ یہ دور حاضر کا انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے پانی بدستور نیچے جا رہا ہے ، ہمیں اس سلسلے میں معاشرے کو چوکنا رکھنے کی ضرورت ہے ، کمیونٹی کے تعاون کے بغیر اس مسئلے سے نمٹنا مشکل ہو گا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے تنبیہ کی کہ لکیر کی فقیری سے باہر نکلیں اور جدید ٹیکنیک اپنائیں آئندہ پندرہ سے بیس سالوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین نوعیت اختیار کر لے گا اور پانی پر جنگیں لڑی جائیں گی۔ہمیں پانی کے ضیاع کے خلاف معاشرے کی ذہن سازی کرنی ہے انہوں نے ہدایت کی کہ متعلقہ حکام اس قومی مسئلے پر کسی کے دباؤ میں نہ آئیں حکومت ہر ممکن مدد کرے گی دوست محمد خان نے کہا کہ پانی کے غیر قانونی کنکیشنز کی رجسٹریشن کا عمل تیز رفتاری سے مکمل ہونا چاہئے حرام خوری کسی بھی صورت میں ہو قابل گرفت ہے اسکو چھوٹ نہیں دینی چاہئے ہم اپنے اختیارات اور کردار میں اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہیں اسلئے آب و ہوا جیسی حیات بخش نعمتوں کے تحفظ اور ان کو آلودگی سے بچانے کیلئے محنت کرنا ہو گی ۔

انہوں نے ہدایت کی کہ پانی کو ضیاع سے روکنے اور آلودگی سے بچانے کیلئے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو باقاعدگی کے ساتھ مانیٹر کریں ، عوامی مقامات اور گھروں میں پانی کا ضیاع بہت بڑی تباہی ہے اسے روکنا ہو گا، آلودہ پانی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اس لئے اس اہم کام میں تاخیر نہیں ہونی چا ہیے آج جو کام لاکھوں میں ہو سکتا ہے کل وہی کام اربوں میں کرنا پڑے گا انہوں نے ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور اس سلسلے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لانے کی ہدایت کی پانی آئندہ نسلوں کی امانت ہے علماء کرام کو چاہئے کہ وہ بھی عوام کو پانی کے استعمال اور اسکی اہمیت سے آگاہ کریں۔