امریکی بارڈر پولیس نے والدین کو 2 ہزار بچوں سے محروم کردیا

گزشتہ 6 ہفتوں میں امریکی سرحد پرغیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تقریباً 2 ہزار بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے 19 اپریل سے 31 مئی کے درمیانی عرصے میں 1 ہزار 995 بچے 1 ہزار 940 اہلخانہ سے بچھڑے‘تمام کیسز کریمنل مقدمات کے حوالے

پیر جون 12:00

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) امریکی ادارے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق گزشتہ 6 ہفتوں میں امریکی سرحد پرغیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تقریباً 2 ہزار بچے اپنیوالدین سے بچھڑ چکے ہیں۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق 19 اپریل سے 31 مئی کے درمیانی عرصے میں 1 ہزار 995 بچے 1 ہزار 940 اہلخانہ سے بچھڑے۔اٹارنی جنرل جیف سیشنز کی جانب سے اعلان کردہ ‘زیرو ٹولرنس’ پالیسی کے تحت ہوم لینڈ سیکیورٹی حکام تمام غیر قانونی تارکین وطن کے کیسز کو کرمنل مقدمات کے حوالے کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی قوائد وضوابط کے مطابق غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے والدین کے ہمراہ بچوں پر کوئی کرمنل کیس عائد نہیں ہوتا۔ہوم لینڈ سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن والدین کی گود سے روتے ہوئے بچوں کو زبردستی لینے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مقامی سیاستدانوں، چرچ گروپ اور بچوں کے تحفظ پر مشتمل غیر سرکاری تنظیموں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

(جاری ہے)

بعض تارکین وطن نے بتایا کہ دودھ پیتے بچوں کو بھی ان کی ماؤں سے چھین لیا گیا۔دوسری جانب ہوم لینڈ سیکیورٹی اینڈ جسٹس ڈیارٹمنٹ نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام بچوں کی بہترین دیکھ بحال کی جاری ہے اور ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی منفی خبریں حقائق کے منافی ہیں۔دوسری جانب انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے تارکین وطن کے ساتھ برتا جانے والا رویہ قابل مذمت ہے اور بچوں اور بیٹیوں کو بطور پیادہ استعمال کرنے والے ظالم پالیسی سازوں کی وجہ سے امریکا میں خاندانی اقدار اور انسانی حقوق کی بنیادیں کمزور پڑ رہی ہیں۔

اعدادو شمار کے مطابق مئی اور 6 جون کے درمیانی عرصے میں اضافی 38 بچوں کو والدین سے الگ کردیا گیا جبکہ اپریل میں 55 اور مارچ میں 64 سیزائد بچوں کو قبضے میں لے لیا گیا۔

متعلقہ عنوان :