ْشامی حکومت کا عالمی فوجی اتحاد پر مشرقی شام میں سرکاری فوج کے ٹھکانوں پر بمباری کا الزام

البوکمال اور التنف کے درمیان موجود شامی فوج کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد مارے گئے

پیر جون 12:00

دمشق (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) شام کی حکومت نے الزام عاید کیا ہے کہ امریکا کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف قائم عالمی فوجی اتحاد نے مشرقی شام میں سرکاری فوج کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

(جاری ہے)

عرب ٹی وی کے مطابق اسد رجیم کے ہمنوا ذرائع ابلاغ نے حکومتی عہدیدداروں کے نام منسوب بیان میں کہا ہے کہ نامعلوم ڈرون طیارے، جو مبینہ طورپر امریکی فوج کے تھے، نے البوکمال اور التنف کے درمیان موجود شامی فوج کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد مارے گئے۔

ادھر امریکی سینٹرل کمان کے ترجمان میجر جوش جاک نے شامی حکومت کی طرف سے البوکمال اور دوسرے علاقوں میں بمباری کا دعویٰ مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتحادی فوج نے مشرقی شام میں حالیہ ایام میں کسی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔واضح رہے کہ اردن اور عراق کی سرحد پر پھیلے البوکمال کے جنوب مغربی شہر التنف میں امریکی فوج کی بھاری نفری تعینات ہے۔گیارہ جون کو شامی فوج نے البوکمال کو شدت پسند تنظیم ’داعش‘ سے آزاد کر لیا تھا اور اب یہ شہر اسدی فوج اور اس کی وفادار ملیشیا کے کنٹرول میں ہے۔

متعلقہ عنوان :