مقبوضہ کشمیر میں سینئر صحافی ڈاکٹر شجاعت بخاری کے قتل کے بعد مقبوضہ وادی میں عوام سڑکوں پر نکل آئی ، کرفیو کا سماں

سینئر صحافی کے قتل کے خلاف وزیر اعظم آزادکشمیر کی کال پر آزادکشمیر بھر سمیت مظفرآباد میں شدید احتجاجی مظاہرہ اور غائبانہ نماز جنازہ اداکی گئی

پیر جون 12:00

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) چاند رات کو مقبوضہ کشمیر میں سینئر صحافی ڈاکٹر شجاعت بخاری کے قتل کے بعد مقبوضہ وادی میں عوام سڑکوں پر نکل آئی ، کرفیو کا سماں ،ْ سینئر صحافی کے قتل کے خلاف وزیر اعظم آزادکشمیر کی کال پر آزادکشمیر بھر سمیت مظفرآباد میں شدید احتجاجی مظاہرہ اور غائبانہ نماز جنازہ اداکی گئی ، بھارت انسانی حقوق کی تمام تر خلاف ورزیوں کی حدیں توڑ چکا ہے ، اب وقت آگیا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے ، شجاعت بخاری کی قربانی ضرور رنگ لائے گی،اقوام ِ متحدہ کی جانب سے عالمی کمیشن بنانے کے اقدام کو خوش آئین قرار دیتے ہیں جبکہ آزادکشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی شجاعت بخاری کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ہے ، جس کے بعد بھارت کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطا بق چاند رات کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے اہلکاروں کی جانب سے ڈاکٹر شجاعت بخاری اور اُن کے محافظ پر اچانک ہی فائرنگ کرکے موت کی گھاٹ اتار دیا جس کے بعد خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ، مقبوضہ وادی میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی جس کے نتیجے میں چارکشمیری شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے ،،بھارتی فوج نے وادی کو فوجی چھانوی میں تبدیل کردیا ،،ڈاکٹر شجاعت بخاری کی موت کی خبر سنتے ہی وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے یوم سیاہ منانے کا اعلان کردیا جس کے بعد عید الفطر کی نماز کی ادائیگی کے بعد وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے پریس کلب کے باہر شدید احتجاجی مظاہرہ کیا جس کی قیادت وزیر اعظم آزادکشمیر ، اپوزیشن لیڈر چوہدری لطیف اکبر ، پی ٹی آئی کے خواجہ فاروق احمد سمیت دیگر سیاسی رہنمائوں کے علاوہ صحافتی تنظیموں کے اراکین نے بھی کی ، مظاہرین نے شدید احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر شجاعت بخاری کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے خلاف فوری طور پر قتل کا مقدمہ درج کریں جبکہ وزیر اعظم آزادکشمیر نے مظاہرین کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شجاعت بخاری کی قربانی رنگ ضرور لائے گی ، پوری کشمیری قوم اُن کی جدوجہد کو سلام کرتی ہے اور بھارتی فوج اور اُس کی ایجنسیوں سے شجاعت بخاری کے قتل کا بدلہ ضرور لیں گے ، ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان اور اُس کی فوج نے ہمیشہ اپنے ہمسائیوں کا خیال کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اپنایا ہے مگر اُس کے باوجود بھارت نے بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی پالیسی نہ چھوڑی اب وقت آگیا ہے کہ پوری کشمیری قوم اپنی فوج کے ساتھ مل کر بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، دری اثنا ، پاسبان حریت کے سربراہ عزیر غزالی نے ڈاکٹر شجاعت بخاری کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جس میں تمام سیاسی و سماجی،صحافتی اور حکومتی اراکین نے شرکت بھی کی اِس کے علاوہ آزادکشمیر کے دیگر اضلاع اور تحصیلوں میں بھی ڈاکٹر شجاعت بخاری کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور اُنہیں خراج تحسین پیش کی گئی جبکہ وزیر اعظم آزادکشمیر نے شہید ہونے والے ڈاکٹر شجاعت بخاری کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اِ س موقع پر اُن کے ساتھ کھڑے ہیں ،ہر مشکل وقت میں ہم ان کا ساتھ دیں گے جس کیلئے اگر ہمیں اپنی جانوں کا نظرانہ بھی پیش کرنا پڑا تو پیچھے نہیں ہٹیں گے جبکہ مظاہرین نے ڈاکٹر شجاعت بخاری شہید سمیت دیگر شہید ہونے والے کشمیریوں کیلئے دعائے مغفرت بھی مانگی اور زخمیوں کیلئے جلد صحت یابی کی دعا بھی کی ۔