شہداء کے لواحقین کے اہلخانہ کی کفالت کے لیے فنڈ قائم کررہے ہیں اس کے لیے قانون سازی کر لی گئی ہے‘وزیراعظم آزاد کشمیر

یہ حکومت شہداء کی وارث حکومت ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے اس سے اگر ہم پہلو تہی کرینگے تو ہم پر عذاب نازل ہوسکتا ہے‘کیمپ میں رہنے والے افراد کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے

پیر جون 12:00

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) وزیر اعظم آزادکشمیر نے ٹھوٹھہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں مہاجرین کے دکھ درد میں شریک ہونے آیا ہوں شہدا نے عظیم مقصد کی خاطر قربانی دی شہید کا مرتبہ سب سے بلند ہے اس کی دعا ہمارے پیارے پیغمبر ﷺ نے شہادت کی تمنا کی جو لوگ اس کی راہ میں مارے جائیں رب تعالی فرماتا ہے کہ ان کو شعور نہیں وہ زندہ ہیں۔

شہدا کے لواحقین کے اہلخانہ کی کفالت کے لیے فنڈ قائم کررہے ہیں اس کے لیے قانون سازی کر لی گئی ہے اس میں حکومت بھی پیسے ڈالے گی۔یہ حکومت شہدا کی وارث حکومت ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے اس سے اگر ہم پہلو تہی کرینگے تو ہم پر عذاب نازل ہوسکتا ہے۔کیمپ میں رہنے والے افراد کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے۔مہاجرین کی آبادی بڑھنے سے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں ان کو حل کرینگے جتنا آزادکشمیر کے کسی شہری کا ریاستی وسائل پر حق ہے اتنا ہی آپ کو بلکہ آپ کا اس سے زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

کشمیریوں کی قربانیاں اور شہادتیں رنگ لا رہی ہیں اقوام متحدہ کی رپورٹ ویسے نہیں آ گئی کشمیریوں نے بہت کرب جھیلے۔شہدا کے لواحقین فکر نہ کریں شہداس کی قربانیوں کا پھل ملنے والا ہے ظالموں کو حساب دینا پڑیگا مہاجرین دلیر لوگ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق ہجرت کی بزدل لوگ نہیں آپ دلیر لوگ ہیں ہم آپ کا بھرپور خیال رکھیں گے تمام کیمپوں میں بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی اولین ترجیح ہے رب تعالی سے دعا ہے کہ مرنے سے پہلے ایک مرتبہ آزادی کے ساتھ سرینگر جانے کا موقع مل سکے اور کشمیری آزادی کے ساتھ اسلام آباد جائیں اور پاکستان کا یوم آزادی وہاں منائیں جو کچھ وہاں مقبوضہ کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی،لوگوں کو اغوا کر لیا گیا لوگوں کا قتل عام کیا گیا معصوموں سے ان کی بینائی چھینی گئی معذور کیے گئے خواتیں آدھی بیوہ پر زندگیاں تنگ کر دی گئیں۔

میں آپ کا خادم ہوں آپ کے ساتھ اور خدمت کے لیے ہمہ وقت حاضر ہوں۔