مظفرآباد ‘سگے بھائی نے اپنے محسن بھائی کو 18لاکھ کا چونا لگا کر جھوٹی قسم کھانے پر اپنی بیمار ضعیف العمر والدہ پر غصہ نکال دیا

پیر جون 12:00

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) نہ زمین پھٹی نہ آسمان ! سگے بھائی نے اپنے محسن بھائی کو 18لاکھ کا چونا لگا کر جھوٹی قسم کھانے پر اپنی بیمار ضعیف العمر والدہ پر غصہ نکال دیا ، 3مرتبہ تشدد کرکے نکال دیا ، بھائی کی مداخلت پر والدہ کو چاند رات کے دن واپس لایا ، ٹیچر فائونڈیشن گریڈ 14کا ملازم نذیر شاہ جو اپنے دفتر میں بیٹھ کر کاغذات کی ٹمپرنگ کرکے جعلسازی سے لاکھوں روپے کما چکا ہے جبکہ 8اکتوبر 2005ء کے زلزلے میں متاثرین کا لاکھوں روپے کا سامان بجائے تقسیم کے اپنے گھر میں گودام لگا رکھا ہے اینٹی کرپشن ، احتساب بیورو نوٹس لیں ،گزشتہ15سالوں میں نذیر شاہ اور اُس کے سپورٹر ٹیچر فائونڈیشن گریڈ 17کا آفیسر کروڑوں پتی کیسے بنی ۔

تفصیلات کے مطابق نہ زمین پھٹی نہ آسمان ! نذیر شاہ جو کہ گریڈ 14کا ملازم ٹیچر فائونڈیشن میں کام کررہا ہے اُس کا بھائی نورالحسن شاہ دیار غیر میں محنت مزدوری کرکے لاکھوں روپے ماہوار بھیجتا تھا جس کو بھائیوں نے کمال چلاکی اور عیاری سے بھیجی جانے والی رقم کوبڑے بھائی کے کھاتے میں ڈالتے رہے جبکہ 2002ء میں نورالحسن شاہ وطن واپس آئے اُس وقت سب سے بڑے بھائی گل حسن شاہ نے دونوں بھائیوں اور بیمار ماں کو الگ کردیا جس کے بعد نہ تو نذیر شاہ کے پاس ملازمت تھی اور نہ ہی کوئی بزنس جبکہ نورالحسن شاہ نے نوکری کرکے سوتیلی بہن کی شادی کروانے کے علاوہ نذیر شاہ کاگھر چلاتا رہا جبکہ 2003ء کے آخری ماہ میں نذیر شاہ کا ٹیچر فائونڈیشن میں آرڈر ہوگیا جہاں ابتدائی طو ر پر گریڈ 7سے تقریباً12سے 14ہزار روپے ماہوار لیتارہا جو کہ ناکافی تھے کیونکہ نذیر شاہ کی ایک بچی اور بیوی جو کہ ذہنی طور پر مریضہ ہے پالتے رہے ، جبکہ ایک سال قبل نذیر شاہ نے رہی سہی کثر پوری کرکے زمین جو کہ چہلہ بانڈی میں ہے نورالحسن شاہ نے لی تھی اپنے نام کرواکر چھت سے بھی محروم کردیا جبکہ والدہ کو ذہنی طور پر ٹارچر کرکے اپنے پاس ڈھال کے طور پر رکھ لیا ،نورالحسن نے اینٹی کرپشن میں درخواست دی جہاں وزیر حکومت کی مداخلت سے کیس کو دبانے کی سرتوڑ کوشش کی مگر ناکامی ہوئی جس پر رمضان کے آخری ایام میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ مسجد میں جھوٹے قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ میں نے پیسے نہیں کھائے جس پر بھائی نے صرف 15سال کا حساب معاف کردیا مگر نذیر شاہ نے اپنی جھوٹی قسم کا بدلہ اپنی بوڑھی اور بیمار ماں سے لینا شروع کردیا ، بھائی کے گھر میں جانے پر پابندی جبکہ روزانہ اُس کو ذہنی طور پر ٹارچر کرکے پریشان کیا جانے لگا جس پر گزشتہ رمضان میں 2مرتبہ اُس کی بیوی جو کہ اس سے قبل خود خودکشی کرنے کی کوشش کرچکی ہے جس کا مقدمہ تھانہ صدر میں موجود تھا اُس مقدمہ کو بھی نورالحسن شاہ نے اپنی ذمہ داری پر ختم کروادیا جبکہ نذیر شاہ نے بجائے بھائی کے باقی پیسے واپس کرنے کے والدہ کو دھمکیاں اور بھائی کے خلاف سازشیں کرنے کیلئے ٹیچر فائونڈیشن میں بیٹھ کر جعلی آئی ڈیز کے تحت بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے یاد رہے نذیر شاہ کی پڑھائی اور اُس کی خرچے کی تمام رقم نورالحسن ادا کرتا رہا ہے جس پر شادی پر 3لاکھ لوئر پلیٹ میں گیلانی جنرل اسٹور پر بناکر دیا جس میں 2سے 3لاکھ روپے اُس کی پیمنٹ دی ، ادا نہیں کی ۔

(جاری ہے)

اب سوچنے کی بات ہے کہ نذیر شاہ جو کہ 2003ء کے آخری ایام میں ٹیچر فائونڈیشن میں 14سے 15ہزار روپے کی تنخواہ پر بھرتی ہوا وہ15سالوں میں لاکھوں روپے کی جائیداد اور اور اسلام آباد کے دیگر علاقوں میں مختلف پلاٹس کس طرح خریدی کیا ٹیچر فائونڈیشن کے اندر بیٹھ کر کرپشن کی جاتی رہی ہے یا کسی بڑے نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہے جبکہ دوسری سب سے بڑی بات نذیر حسین شاہ جس نے اپنی والدہ کو ذہنی اور جسمانی طور پر مریض بناکر اُس کے علاج کا ڈرامہ کررہا ہے اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ اُس نے بھائی سید نورالحسن شاہ کو پیسے واپس کرنے کے بجائے سازشیں کرکے پیسے ہڑپ کرنے کے در پر ہے جبکہ نورالحسن شاہ کا کہنا ہے کہ میری والدہ کو اگر کچھ بھی ہوا تو اُس کے ذمہ دار نذیر شاہ اور گل حسن شاہ ہونگے جبکہ گل حسن کی جانب23لاکھ اور نذیر شاہ کی جانب 18لاکھ روپے ہے ،خود نورالحسن شاہ کرایہ کے مکان میں رہ رہا ہے جبکہ نذیر شاہ نے جعلسازی کے تحت تمام پیسے ہڑپ کرلئے ،اُنہوں نے احتساب بیورو ،اینٹی کرپشن،،اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نذیر شاہ کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے اثاثوں کی چھان بین کریں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اور ٹیچر فائونڈیشن میں چھپے وہ آفیسران بھی بے نقاب کئے جائیں جو شروع سے لے کر آج تک ٹیچر فائونڈیشن کو لوٹ رہے ہیں ۔