چیف جسٹس آف پاکستان نے خواجہ سرائوں کو شناختی کارڈ کی فراہمی سے متعلق کمیٹی قائم کر کے فوری طور پر سفارشات طلب کر لیں

خواجہ سرائوں کے شناختی کارڈ ون ونڈو طریقے سے بننے چاہئیں،سپریم کورٹ تمام اقدامات کو خود آن لائن مانیٹر کریگی،میں خود اسے سپروائز کرونگا جب تک خواجہ سرائوں کو عدالتی تحفظ نہیں ملے گا انکے معاملات حل نہیں ہوسکتے،ایسا نظام بنائیں گے انکا حق انہیں دہلیز پر ملے‘چیف جسٹس ثاقب نثار صرف شناختی کارڈ کا مسئلہ نہیں، خود کفیل بننا چاہتے ہیں ہمیں سرکاری نوکریاں بھی دی جائیں‘خواجہ سرائوں کی سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر گفتگو

پیر جون 14:10

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے خواجہ سرائوں کو شناختی کارڈ کی فراہمی سے متعلق کمیٹی قائم کرتے ہوئے فوری طور پر سفارشات طلب کرلیں۔۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عیدالفطر کے پہلے روز لاہور کے فائونٹین ہائوس کے دورے کے موقع پر خواجہ سرائوں کی جانب سے انہیں شناختی کارڈ جاری نہ کرنے کی شکایت پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور متعلقہ حکام سمیت اخوت فائونڈیشن کے امجد ثاقب کو طلب کیا تھا۔

پیر کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں خواجہ سرائوں کو شناختی کارڈ جاری نہ کرنے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے خواجہ سرائوں کو شناختی کارڈ کی فراہمی سے متعلق کمیٹی قائم کرتے ہوئے فوری طور پر سفارشات طلب کرلیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ سرائوں کے شناختی کارڈ ون ونڈو طریقے سے بننے چاہئیں۔

سپریم کورٹ تمام اقدامات کو خود آن لائن مانیٹر کرے گی اور میں خود اسے سپروائز کروں گا۔انہوں نے کہا کہ خواجہ سرائوں کے ساتھ کسی قسم کی بدتمیزی اور چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کی جاسکتی، خواجہ سرائوں سے بدتمیزی اور برے سلوک پر ہمیں بطور معاشرہ شرم آنی چاہیے۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ خواجہ سرائوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی کیونکہ جب تک خواجہ سرائوں کو عدالتی تحفظ نہیں ملے گا، ان کے معاملات حل نہیں ہوسکتے۔

خواجہ سرائوں کے لیے ایسا نظام بنائیں گے کہ ان کا حق انہیں ان کی دہلیز پر ملے۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ سرا معاشرے کا اہم حصہ ہیں، ریاست کام کرتی ہے یا نہیں لیکن عدلیہ جو کرسکی اس پر عمل کروائیں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے مزید ریمارکس دیئے کہ جن خواجہ سرائوں کے پاس شناختی کارڈ موجود ہیں، انہیں ووٹ کا حق ملنا چاہیے۔۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر موجود خواجہ سرائوں نے چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کو تاریخی دن قرار دے دیا۔میڈیا سے گفتگو میں خواجہ سرائوں کا کہنا تھا کہ صرف شناختی کارڈ کا مسئلہ نہیں، انہیں سرکاری نوکریاں بھی دی جائیں۔خواجہ سرائوں نے مزید کہا کہ وہ خود کفیل بننا چاہتے ہیں تاکہ معاشرہ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے۔