حکومت کا اولین مقصد عوامی خواہشات اور توقعات پر پورا اترنا ہے، مودی

بھارتی معیشت کو ڈبل فگر تک لے جایا جائے گا، وزائے اعلیٰ تیز رفتار ترقی میں مزید کردار اد کریں، بھارتی وزیر اعظم اجلاس میں دہلی ،منی پور، گوا، تری پورہ،سکم ،میزورم، اوڈیشہ اورجموں و کشمیر کے وزرائے اعلی شریک نہیں ہوئے، بھارتی میڈیا

پیر جون 14:30

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ عوامی خواہشات اور توقعات کو پورا کرنا مرکز ی حکومت کا اولین مقصد ہونا چاہئے،،بھارتی معیشت کو 7.7سے ڈبل فگر تک لے جایا جائے گا، وزائے اعلیٰ بھارت کی تیز رفتار ترقی میں اپنا اپنا کردار مزید اجاگر کریں، اجلاس میں دہلی ،منی پور، گوا، تری پورہ،سکم ،میزورم، اوڈیشہ اورجموں و کشمیر کے وزرائے اعلی شریک نہیں ہوئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ عوامی خواہشات اور توقعات کو پورا کرنا مرکز ی حکومت کا اولین مقصد ہونا چاہئے ۔ مودی نیتی آیوگ(پالیسی کمیشن )کی گورننگ کونسل چوتھے اجلاس کے افتتاحی سیشن میں وزرائے اعلی سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے معیشت کی ترقی کی شرح2 عددی ہندسوں میں پہنچانے کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی توقعات و خواہشات ہمارے نزدیک انتہائی اہم ہیں جن کو پورا کرنا مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا اولیں مقصد ہونا چاہئے۔

(جاری ہے)

مودی نے راشٹرپتی بھون کے کلچرل ہاوس میں تقریر کرتے ہوئے مزید کہا کہ مالی سال 2017-18 کی چوتھی سہ ماہی میں بھارتی معیشت کی ترقی کی شرح 7.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے لیکن اب اسے ڈبل فیگر تک لے جانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کیلئے اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔وزیر اعظم نے اشیا و خدمات ٹیکس(جی ایس ٹی)کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ امداد باہمی کی بہترین مثال ہے۔

پیچیدہ مسائل پرٹیم انڈیا کی روح جھلکتی ہے۔وزرائے اعلی کاترقی میں اہم کردار ہے ۔ سوچھ بھارت مہم،ڈیجیٹل لین دین اور کوشل وکاس جیسے معاملات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی اور ذیلی کمیٹیوں کی تجاویز کو مرکزی حکومت اور مختلف وزارتوں نے لاگو کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورننگ کونسل ملک میں تاریخ سازتبدیلی لانے کا ایک مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے سیلاب سے متاثرہ تمام ریاستوں کے وزرائے اعلی کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس اجلاس میں دہلی ،منی پور، گوا، تری پورہ،سکم ،میزورم، اوڈیشہ اورجموں و کشمیر کے وزرائے اعلی نہیں پہنچے۔اس دوران آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندر بابو نائیڈو نے ریاست کو خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ کیا جس کی بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے حمایت کی اور اپنے صوبہ کے لیے بھی یہی مطالبہ کیا۔