ابو ظہبی : تیز رفتار ڈرائیوروں کی شامت آ گئی

رواں سال پولیس نے 3 ہزار کے قریب ’منچلے‘ ڈرائیوروں کو جرمانے کر ڈالے

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر جون 14:55

ابو ظہبی : تیز رفتار ڈرائیوروں کی شامت آ گئی
ابو ظہبی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔18جُون 2018ء) ابو ظہبی پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ رواں سال کے دوران ریاست کی چھوٹی بڑی سڑکوں پر 200کلو میٹر فی گھنٹہ یا اس سے زائد کی رفتار پر گاڑی چلانے والے 2,965 ڈرائیوروں کو پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ ان ڈرائیوروں میں سے 8 فیصدڈرائیوروں کو تیز رفتاری کے باعث کسی حادثہ کا سبب بننے کے باعث گرفتار کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق نوجوانوں کو خطرناک ڈرائیونگ کا مرتکب پایا گیا جو تیز رفتاری کے باعث 46 فیصد حادثات کا باعث بنے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس کی جانب سے موٹر ڈرائیوروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ تیز رفتاری کے مُرتکب نہ ہو کر اپنی اور دُوسروں کی جان کو خطرے میں ڈالنے سے بچیں۔

(جاری ہے)

کیونکہ تیز رفتاری سے گاڑی چلانے پر گاڑی کا کنٹرول ڈرائیور کے بس میں نہیں رہتا اور کسی ایمرجنسی کی صورت میں گاڑی کو سنبھالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور اچانک سامنے آنے والی چیز کو ٹھیک طرح سے نہیں دیکھ پاتا اورٹکراؤ کی صورت میں نتیجہ حادثے‘ زخمی اور یہاں تک کہ موت کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ پولیس کی جانب سے کم عمر ڈرائیور حضرات سے خصوصی طور پر اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑی کی رفتار قابو میں رکھ کر خود اپنی اور دُوسروں کی جان کو محفوظ رکھیں۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں روڈ ایکسیڈنٹ کا سب سے بڑا سبب تیز رفتار ڈرائیونگ ہے۔

یہ تیز رفتاری سینکڑوں افراد کی جانیں لے چکی ہے اور کئی افراد اس کے باعث عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو کر گھر بیٹھ گئے ہیں۔ منچلے افراد سڑکوں پر گاڑیوں کی ریس کے دوران سپیڈ خطرناک حد تک بڑھا لیتے ہیں جس کے باعث وہ خود‘ دُوسرے گاڑی سوار یا راہگیر اکثر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر عوام کی جانب سے بھی متعلقہ اداروں کو تیز رفتار ڈرائیوروں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے پولیس کی جانب سے عوام کے تحفظ کے لیے تیز رفتاری پر بڑی تعداد میں جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔