حلقہ این اے 8کا ایم ایم اے ٹکٹ جے یو پی نے مانگ لیا

ایمپورٹڈ امیدوار لانے کی بجائے جے یو پی مالاکنڈ مضبوط ترین امیدوار سامنے لائے گا

پیر جون 15:20

درگئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) حلقہ این اے 8کا ایم ایم اے ٹکٹ جے یو پی نے مانگ لیا۔ ایمپورٹڈ امیدوار لانے کی بجائے جے یو پی مالاکنڈ مضبوط ترین امیدوار سامنے لائے گا۔ ایم ایم اے کے صوبائی صدر کی یقینی ناکامی کے باعث شرمندگی اٹھانے سے بچنے کا واحد راستہ جے یو پی کا مقامی امیدوار ہی ہوسکتا ہے ۔ جے یو پی مالاکنڈ کے عہدیداروں کی درگئی میں پریس کانفرنس سے خطاب تفصیلات کے مطابق : جے یو آئی (ف) مالاکنڈ کی جانب سے حلقہ این اے 8پر صوبائی صدر ایم ایم اے مولانا گل نصیب خان کی نامزدگی کے باعث اختالافات کا نوٹس لیتے ہوئے جے یو پی ضلع مالاکنڈ کے عہدیداروں نے جامعہ سبحانیہ رضویہ میں پر ہجوم ضلعی شوریٰ کے اجلاس کے بعد عہدیداروں ممبران پارلیمانی بورڈ ایم ایم اے مالاکنڈ مولانا عطاء اللہ قادری ، ایم ایم اے کے ضلعی سینئر نائب صدر مولانا رحمت اللہ قادری ، صاحبزادہ محمد اسحاق ، مولانا قبال حسین ، مولانا محمد ایوب قادری ، مولانا محمد ادریس اور دیگر نے یہاں درگئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایم اے کے مرکزی قائد مولانا فضل الرحمان سے پر زور مطالبہ کیا کہ این اے 8 کا ایم ایم اے ٹکٹ جے یو پی کے امیدوار کو دیا جائے۔

(جاری ہے)

ان علماء و مشائخ کا موقف تھا کہ مالاکنڈ میں کسی بھی الیکشن میں ایمپورٹد امیدوار کامیابی سے اہمکنار نہیں ہوا اور مولانا گل نصیب خان جو کہ ایم ایم اے کے صوبائی صدر بھی ہیں کو مالاکنڈ میں ایم ایم اے کے امیدوار نامزد کرنے سے نہ صرف جو یو آئی (ف) کے مقامی قیادت ، عہدیداروں اور کارکنان کو امتحان میں ڈال دیا گیا ہے بلکہ ایم ایم اے میںشامل دیگر مذہبی جماعتوں میں بھی تشویش اس لئے پیدا ہوگیا ہے کہ ان کی نامزدگی سے ایم ایم اے کی مالاکنڈ میں یقینی جیت یقینی شکست میں تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے ایسے میں اگر ایم ایم اے کے قائد مولانا فضل ارحمان دانشمندانہ فیصلہ کرکے این اے 8مالاکنڈ کے قومی اسمبلی کیلئے جے یو پی کو یہ ٹکٹ دینے کا اعلان کردیں تو جے یو پی یہاں سے مضبوط ترین امیدوار سامنے لاتے ہوئے اس سیٹ کو جیت کرکے ایم ایم اے کو دے گی۔

انہون نے واضح کیا کہان کیلئے قابل قدر مولانا گل نصیب خان مالاکنڈ میں قسمت آزمائی کرنے کی بجائے اپنے آبائی حلقہ سے الیکشن میں حصہ لیں اور اپنی اہلیت ثابت کرلیں گے تو اس سے مولانا کی عزت میں مزید اضافہی ہوجائے گا۔