بائیکاٹ مری مہم؛ عید پر بھی ٹورسٹ کی ناراضگی کم نہ ہو ئی‘مری کا سہانا موسم بھی ناراض سیاحوں کو نہ منا سکا

مری میں سیاحوں کے ساتھ بد سلوکی کے واقعات پر سوشل میڈیا پر مری بائیکاٹ مہم شروع کر دی گئی تھی خوفزدہ سیاح سیر و تفریح کیلئے مری کے بجائے دوسرے تفریحی مقامات کو ترجیح دینے لگے ہیں

پیر جون 16:00

مری (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) عید پر بھی مری سے ناراض ٹورسٹ کی ناراضگی کم نہ ہو ئی۔ مری کا سہانا موسم بھی ناراض سیاحوں کو نہ منا سکا۔پیر کو نجی ٹی وی کے مطابق مری بائیکاٹ مہم کا عید کے روز بھی دکھائی دیا۔۔مری کا سہانا موسم بھی ناراض سیاحوں کا نہ منا سکا۔دکانداروں کے رویوں سے ناراض سیاحوں نے عید پر بھی مری کا بائیکاٹ جاری رکھا۔

۔۔عید کے موقع پر بھی سوشل میڈیا پر جاری مری بائیکاٹ مہم کا اثر کم نہ ہو سکا۔گزشتہ برس کے مقابلے میں اس عید پر سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔پچھلی عیدوں پر جہاں مری جانے والی ساری سڑکیں بلاک ہو جاتی تھیں اس بار ایسا کوئی منظر نظر دیکھنے میں نہیں آیا - بلکہ مری انتہائی کم لوگ پہنچے۔یاد رہے کہ مری میں سیاحوں کے ساتھ بد سلوکی کے واقعات پر سوشل میڈیا پر مری بائیکاٹ مہم شروع کر دی گئی تھی۔

(جاری ہے)

خوفزدہ سیاح سیر و تفریح کے لیے مری کے بجائے دوسرے تفریحی مقامات کو ترجیح دینے لگ گئے۔۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے صدر انجمن تاجران مری راجہ طفیل اخلاق کاگفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہر بار سیزن میں مری میں اس طرح کے ایک دو واقعات ہوتے ہیں۔ اور اس کی بنیادی وجہ غلط پارکنگ ہے۔جب سیاح غلط پارکنگ کرتے ہیں تو مقامی لوگوں کی ان کے ساتھ تلخ کلامی ہو جاتی ہے۔

اور اس معمالے میں سب سے زیادہ ذمہ داری ٹریفک پولیس مری پر عائد ہوتی ہے۔یہ مری میں آنے والے سیاحوں کو گاڑیاں پارک نہیں کراتے اور اپنے موبائل فون پر لگے رہتے ہیں۔جس کی وجہ سے سیاح غلط گاڑیاں پارک کر لیتے ہیں اور پھر تکرار شروع ہو جاتی ہے۔ راجہ طفیل کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی مری بائیکاٹ کی مہم بلکل غلط ہے۔کیونکہ مری کے سارے لوگ ایسے بد سلوک نہیں ہیں۔