34 سال پہلے کیسے نواز شریف کو پارٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا، چوہدری نثار حقائق سامنے لے آئے

میں نواز شریف میرا مقروض ہے میں نواز شریف کا نہیں،نواز شریف اہل نہیں تھے کہ پارٹی کے سربراہ بن سکیں،34سال سے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے،چوہدری نثار کے نواز شریف پر وار

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر جون 19:31

34 سال پہلے کیسے نواز شریف کو پارٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا، چوہدری نثار ..
راولپنڈی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-18 جون 2018ء) ::چوہدری نثار نے انتخابی مہم شروع کرتے ہی نواز شریف کو کھری کھری سنا دیں۔۔چوہدری نثار نے نواز شریف پر تنقید کے وارکرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف میرا مقروض ہے میں نواز شریف کا نہیں۔۔نواز شریف اہل نہیں تھے کہ پارٹی کے سربراہ بن سکی،34سال سے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اپنی انتخابی مہم شروع کرتے ہی نواز شریف کو اپنی تنقید کا ہدف بنا دیا۔

چکری جلسے میں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نواز شریف کا نہیں بلکہ نواز شریف میرا مقروض ہے۔۔چوہدری نثار نے اس موقع پر چکری میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چاہتاتھاکہ آج ن لیگ اورنوازشریف کےحوالےسےکھلی باتیں کروں۔

(جاری ہے)

ارادہ تھا کہ بہت سی دل کی باتیں کھل کر سامنے رکھوں۔میڈیا کےسامنےبہت سی باتیں نہیں کرسکتا۔۔نوازشریف اوران کی بیٹی کاجوکرداررہا وہ سامنےلاناچاہتاہوں۔

بیگم کلثوم نوازکی طبیعت خراب ہے۔۔نوازشریف اورن لیگ کےساتھ چند ماہ سےجوکچھ ہورہاہےبتانےکایہ موقع نہیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کا مجھ پر نہیں میرا اس پر اور اس کے خاندان پر قرض ہے۔34 سال سے میں نے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا۔جب پارٹی بنا رہے تھے،اس وقت صرف15،20 لوگ تھے۔۔نواز شریف اہل نہیں تھے کہ پارٹی کے سربراہ بن سکیں۔۔میاں نواز شریف بہت زیادہ سینیر یا اہل نہیں تھے۔

انہوں اس راز سے بھی پردہ اٹھایا کہ نواز شریف مسلم لیگ ن کے سربراہ کیسے بنے ۔انکا کہنا تھا کہ ان دنوں میں صرف کسی ایک کو آگے کرنا تھا تو فیصلہ کیا کہ نواز شریف کو آگے کرنا چاہیے۔ان 20،25 لوگوں میں آج مسلم لیگ ن میں ایک بھی شخص شامل نہی۔ان تمام افراد کو یا تو نواز شریف نے چھوڑ دیا یا انھوں نے پارٹی چھوڑ دی۔ہو سکتا ہے میری نواز شریف سے راہیں جدا ہو جائی۔

کوئی کام اپنے اصولوں کے خلاف نہیں کی۔انکا کہنا تھا کہ میں اللہ تعالٰی، قوم اور نواز شریف سب کے سامنے جوابدہ ہوں۔یں نے سر اٹھا کر سیاست کی ہے۔کسی کے پیچھے ہاتھ باندھ کرکھڑا نہیں ہوا،چاپلوسی نہیں کی۔میں نہ بکنے والا ہوں نہ ضمیر فروش ہوں،سیاست عزت کیلیے کروں گا۔اقتدارمیں آکرکوئی انڈسٹری نہیں لگائی خاندان کوفائدہ نہیں پہنچایا۔جومجھے خاموش رہنے کا کہتے ہیں ان کو کہتا ہوں 25 جولائی کو عوام جواب دینگے۔