امیرحیدرخان ہوتی کا سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف نیب کی تحقیقات کو جلد ازجلد منطقی انجام تک پہنچانے کا مطالبہ

مالم جبہ اراضی کیس سمیت پشاور بیوٹیفیکشن منصوبے کے فائلوں پر بھی کاروائی کو مکمل کیاجائے ،اداروں کو سیاسی تسلط سے آزادکرانے کے حوالے سے سابق حکومت کے دعوے وقت نے جھوٹ کا پلندہ ثابت کردیئے، مردان میں عید کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کررہے

پیر جون 20:30

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف نیب کی تحقیقات کو جلد ازجلد منطقی انجام تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ مالم جبہ اراضی کیس سمیت پشاور بیوٹیفیکشن منصوبے کے فائلوں پر بھی کاروائی کو مکمل کیاجائے ،اداروں کو سیاسی تسلط سے آزادکرانے کے حوالے سے سابق حکومت کے دعوے وقت نے جھوٹ کا پلندہ ثابت کردیئے ، سابق دور میں صوبے کی مثالی پولیس کی یہ حالت تھی کہ پرویز خٹک تھانوں میں ایس ایچ اوز لگاتے تھے جبکہ پورے عرصے میں سیاسی سکورننگ اوردوسرے صوبوں میں نام کمانے کے لئے بے گناہ پولیس اہلکاروں پر کریشن کے الزامات لگاکر نوکری سے برخاست کرنے کی پریکٹس جاری رہی، محکمہ صحت کی کارکردگی کے دعوؤں کی قلعی چیف جسٹس کے دورہ خیبرپختونخوا کے دوران ان کے ریمارکس سے کھل گئی ہے وہ اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس مردان میں عید ملنے والے کارکنوں سے خطاب کررہے تھے، اس موقع پر پارٹی کے صوبائی نائب جاوید یوسفزئی اور ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان بھی موجودتھے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ جس پارٹی کے لیڈر کارکنوں کو ان کا جائز مقام نہیں دے سکتے ان سے عوام کے لئے کچھ کرنے کی امید فضول ہے ،انہوں نے کہاکہ کرپشن کے خلاف زمین آسمان ایک کرنے والوں نے پانچ سال تک کچھ نہ کیا پرویزخٹک صوبے کے وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے نیب میں حاضری لگاتے رہے جبکہ تبدیلی سرکار تاریخ کی پہلی حکومت تھی کہ اپوزیشن کی بجائے خود ان کے وزراء اور پارٹی اراکین اسمبلی ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتے رہے ، انہوںنے کہاکہ آنے والی نئی حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا کرناہوگا سب سے بڑا چیلنج خالی خزانہ اوربیرونی قرضے ہیں جبکہ سابق حکومت کے منصوبوں کی تکمیل بھی آزمائش ہوگی، پی ٹی آئی کی حکومت تین سال تک سوئی رہی آخر وقت میں میٹروکے نام پر پشاور اورفلائی اوروز کے نام پر مردان کو کھودا گیا جبکہ جاتے ہوئے جلدی میں سابق وزیراعلیٰ سوات ایکسپریس وے کے 80کلومیٹر منصوبے میں محض گیارہ کلومیٹر کا افتتاح کرسکے انہوںنے الزام لگایاکہ سابق حکومت نے اداروں کی سیاسی مداخلت سے آزاد کرنے کے جھوٹے دعوے کئے، پی ٹی آئی کے دورمیں حالت یہ تھی کہ سابق وزیراعلیٰ خود تھانوں کے ا یس ایچ اوز لگاتے رہے آئی جی کو احکامات دیئے گئے تھے کہ اپنی قلم کو ’’تیز‘‘ کریں بے گناہ آفسیران اوراہلکاروں پر کریشن کے الزامات عائد کرکے ان کو نوکری سے نکالا گیا لیکن عدالتوں نے انہیں دوبارہ بحال کرکے ان الزامات کو جھوٹ ثابت کردیا، انہوں نے محکمہ پولیس میں اس حوالے سے اندورنی سروے کرانے کا بھی مطالبہ کیا ،،اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ اے این پی اس صوبے کے عوام سے کی گئی ذیادتیوں کا حساب لے گی اقتدار میں آکر محرومیوں کا ازالہ کیاجائے گا کارکن جرگوں کے ذریعے پختون قوم کو یکجہتی اورباہمی اتحاد اوراتفاق کا پیغام دیں کیونکہ باہمی اتحاد ہی سے صوبے کے حقوق حاصل کئے جاسکیں گے، انہوںنے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی کے جھوٹے دعوؤں پر کان نہ دھریں۔