حیدرآباد: روہڑی کینال میں ڈوبنے والے 2نوجوانوںکا ڈوب کر جاںبحق ہونا افسوسناک ہے ، وزیراعلیٰ سندھ

36گھنٹے گزرنے کے باوجودلاشیں تلاش نہ کر پانا باعث تشویش ہے ،انتظامیہ جلد لاشیں بر آمد کرنے میں تعاون کرے، ہدایت

پیر جون 20:50

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) روہڑی کینال میں ڈوبنے والے 2نوجوانوںکا ڈوب کر جاںبحق ہونا افسوسناک اوروزیر اعلی سندھ کے نوٹس کے باوجود 36گھنٹے گزرنے کے باوجودلاشیں تلاش نہ کر پانا باعث تشویش ہے ،انتظامیہ جلد لاشیں بر آمد کرنے میں تعاون کرے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار مرکزی تنظیم آرائیاں حیدر آباد ڈویژن کے صد ر انجینئر شاہد محمود آرائیں،انفارمیشن سیکریٹری امتیاز علی آرائیں،انجینئر مدد علی آرائیں،چوہدری محمد جمیل آرائیں نے گوٹھ حاجی خیرالدین آرائیں کولاب جھیل کے نوجوانوں محمد حفیظ آرائیں ولد محمد سرور آرائیں قاسم علی ولد جاوید آرائیں کے ٹنڈ و مستی فال کے قریب روہڑی کینال میں ڈوب کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر دکھ، افسوس اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہاراور نوجوانوں کی مغفرت کے لئے دعا کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ تنظیم آرائیاں کے سرپرست اعلی حاجی عبدالمجید آرائیں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر نگراں وزیر اعلی سندھ سے رابطہ کر کے لاشوں کی تلاش میں مدد کے لئے تعاون مانگا تھا جس پر ویزاعلی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے کمشنر سکھر سے فوری رپورٹ طلب کی اور لاشوں کی فوری تلاش کا حکم دیا تھا لیکن 36گھنٹے گزرنے کے باوجو د انتظامیہ کی طرف سے نوجوانوں کی لاشوں کی تلاش میں سستی باعث تشویش ہے ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نوجوانوں کی لاشیں جلد از جلد تلاش کی جائیں تاکہ ورثا ذہنی عزیت سے نجات پا سکیں ۔

متعلقہ عنوان :