بدقسمتی سے نظریہ پاکستان کے بر عکس رہی انگریزی غلامانہ نظام ابھی تک چل رہا ہے جس سے آج حلات اندورنی و بیرونی سطح پر خطرناک ہیں ،پیر سید سید چراغدین شاہ

پیر جون 21:00

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) ممتاز عالم دین مفسر قرآن و امیر تحریک اتحاد امت پاکستان کے حضرت مولانا پیر سید سید چراغدین شاہ نے جامعہ سراجیہ پارک اصغرمال چوک میں بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان رمضان المبارک اور نزول قرآن کے صدقے میں معرض وجود میں آیا نظریہ پاکستان کا مطلب ایگریز کی غلامی سے آزاد ہو کر پاکستان کو صحیح معنوں یں اسلامی فلاعی ریاست بنانا تھا مگر بدقسمتی سے نظریہ پاکستان کے بر عکس رہی انگریزی غلامانہ نظام ابھی تک چل رہا ہے جس سے آج حلات اندورنی و بیرونی سطح پر خطرناک ہیں ،انہوں نے تمام مکاتب فکر کے اکابرین پر زور دیا کہ وہ موجودہ حلات کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے نظریہ پاکستان کے عملی نفاذ کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرکے آگے آئیں یہ وقت سیاست کا نہیں رہا ملک بچانے کا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی عظیم قربانیوں کی وجہ سے آج ہمارا وجود بر قرار ہے اگر پاکستان میں قرآن و سنت کی بلادستی کا عملی نفاذ کر دیا جائے تو نا صرف عادلانہ نظام بحال ہو گا بلکہ تمام ادارے فحال ہو کر اپنا اکردار ادا کر سکتے ہیں ۔ پیر سید چراغ الدین شاہ نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ1973کے آئین کا عملی نفاذ کے حامی ممبران کو منتخب کریں تاکہ پاکستان اور اسلام دشمن طاقتوں کو ناکام اور استحکام پاکستان باہمی اختلافات کو بلا کر متحد ہو جائیں، انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے سر براہوں پر زور دیا کہ ایسے لوگوں کو ٹکٹ جاری کریں جو آئین کی دفعات 62,63پر پورا اترتے ہوں۔