جیل میں قید بے گناہ بچوں کے کیسز کی تفصیلات جمع کی جائیں تاکہ ان بچوں کے معاملات کو فوری طور پر حل کیا جائے

قیدی بچوں کو مختلف فنی تربیت بشمول الیکٹریشن ، آئی ٹی ، پلمبرنگ ، کارپینٹر، اور دیگر علوم کی بھی تعلیم و تربیت دی جائے،نگران وزیرماحولیات و قانون جمیل یوسف کا تقریب سے خطاب

پیر جون 21:10

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) سندھ کے نگراں وزیر اطلاعات ، انفارمیشن ٹیکنالوجی،، ماحولیات و قانون جمیل یوسف نے کہا ہے کہ جیل میں قید بے گناہ بچوں کے کیسز کی تفصیلات جمع کی جائیں تاکہ ان بچوں کے معاملات کو فوری طور پر حل کیا جائے ، انہوں نے سینٹرل جیل کراچی میںایک این جی او کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

نگراں وزیر اطلاعات جمیل یوسف نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ قیدی بچوں کو مختلف فنی تربیت بشمول الیکٹریشن ، آئی ٹی ، پلمبرنگ ، کارپینٹر، اور دیگر علوم کی بھی تعلیم و تربیت دے۔ انہیں معاشرہ کا کارآمد فرد بنانے کے لئے مختلف سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے تعلیم و تربیت دی جائے اور انہیں مکمل قانونی مدد فراہم کر کے ان کے انفرادی طور پر کیسز کی جانچ پڑتال کرائی جائے۔

(جاری ہے)

جمیل یوسف نے محکمہ داخلہ کو بھی ہدایت کی کہ ان قیدی بچوں کے کیسز کی چھان بین کرنے کے لئے خصوصی اقدامات اور لائحہ عمل بنا کر حکمت عملی وضع کرے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قیدی بچوں کو جیل میں فنی تربیت اور تعلیم دی جائے تاکہ یہ بچے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ جمیل یوسف نے اپنے خطاب میں جیلوں میں شجر کاری اور قیدیوں کے لئے بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ قیدی بچوں کے لئے کھیل کود اور دیگر جسمانی سرگرمیوں کا اہتمام بھی کیا جائے۔

اس موقع پر نگراں صوبائی وزیر نے قیدی بچوں سے انفرادی طور پر انکے مسائل سنے اور متعلقہ حکام کو ان کے فوری حل کے لئے احکامات جاری کئے۔ بعد ازاں انہوں نے بچوں کے ہمراہ کیک کاٹا اور تحائف بھی دیے۔ اس موقع پر صدر جسٹس ہیلپ لائن ایڈووکیٹ ندیم شیخ نے اپنی انجمن کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ تقریب میں سیکریٹری قانون شارق احمد شیخ، ڈی آئی جی جیل خانہ جات قاضی نذیر احمد، جیل سپرٹنڈنٹ گل محمد شیخ، ڈپٹی چیف شوکت سلیمان، قاضی خالد ایڈووکیٹ اور بروکس فارما کے سی ای او ندیم خان نے بھی شرکت کی۔#