نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹرحسن عسکری کا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کا دورہ ،بچوں کے ساتھ عید کا روز گزارا ،بچوں کے ساتھ ملکر کیک کاٹا

وزیراعلیٰ نے بچوں میں عید کے تحائف تقسیم کیے ،ان کے ساتھ شفقت کا اظہار کیا،بچیوں کے ہاسٹل کا دورہ ، سہولتوں کا جائزہ لیا ہم عام آدمی کو ریلیف دینے کی پوری کوشش کریںگے، حسن عسکری نگران حکومت لانگ ٹرم پالیسی دے گی نہ کوئی منصوبہ روکے گی،جو منصوبے چل رہے ہیں وہ چلتے رہیں گے،بے سہارا بچوں کی تعلیم و تربیت قومی تعمیر کے عمل کا حصہ ہے،چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو بہت شاندار اورنیک کام کررہا ہے بے سہارا بچوں کی تعلیم و تربیت ریاست کی ذمہ داری ہے،اس کیلئے پنجاب حکومت نے پہلے بھی تعاون کیا اورآئندہ بھی کرے گی نگران حکومت کا محدود مینڈیٹ ہے لیکن اس کے باوجود پوری کوشش کے ساتھ عام آدمی کی فلاح وبہبود کیلئے کام کریں گے ہماری کوشش ہوگی کہ غیر جانبدارانہ ڈھانچہ بنایا جائے ،ہر پارٹی کو الیکشن میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے جائیں، کسی بھی شکایت کا ہر ممکن ازالہ کرینگے ہماری کارکردگی کو آپ اور عوام جج کریںگے اورجب نگران حکومت کا دور ختم ہوگا تو ہی اس کی کارکردگی زیر بحث آئے گی پنجاب کابینہ میں پیشہ ورانہ تجربے کی حامل شخصیات کو شامل کیاگیاہے، فیصلے کرنے میں نگران صوبائی وزراء خود مختار ہیں،نگران وزیراعلیٰ

پیر جون 21:40

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) نگران وزیراعلیٰ پنجا ب ڈاکٹرحسن عسکری نے عیدکے روز چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کا دورہ کیا۔نگران وزیراعلیٰ نے بے سہارا بچوں کے ساتھ عید کا روز گزارااور بے سہارا بچوں کے ساتھ ملکر کیک کاٹا۔۔ڈاکٹر حسن عسکری نے بچوں میں عید کے تحائف تقسیم کیے اورانہیں پیار کیااوران کے ساتھ شفقت کا اظہار کیا۔

نگران وزیراعلیٰ نے بچیوں کے ہاسٹل کا دورہ کیااورہاسٹل میں بے سہارا بچیوں کیلئے فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔۔ڈاکٹر حسن عسکری نے بے سہار ا بچوں اوربچیوں کے ساتھ ملکرسویاں اورکھیر بھی کھائی۔۔ڈاکٹر حسن عسکری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عید کے روز مجھے یہاں آکر بے حد خوشی ہوئی۔یہ بے سہارابچوں اور بچیوں کی فلاح وبہبود کا شاندار منصوبہ ہے اورایسے اداروں میں بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ بے سہارا بچیوں کی کردارسازی ایک قومی فریضہ ہے اور ہم سب کو اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ بے سہارا بچوں کے ساتھ خوشیاں منانا اچھا لگتا ہے ۔آج چھٹی کا دن ہے لیکن میں پھر بھی ڈیوٹی پر ہوں اورآپ سب بھی اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔

میرا تعلق میڈیا اورتعلیم کے شعبہ سے ہے،اپنی ذمہ داری پوری کر کے میں واپس اپنے شعبہ میں جاؤں گا۔انہوںنے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو بہت شاندار اورنیک کام کررہا ہے۔بے سہارا بچوں کی تعلیم و تربیت قومی تعمیر کے عمل کا حصہ ہے۔ایسے بچوں کو تعلیم و تربیت کے ذریعے معاشرے کا اہم فردبنانا ہوتا ہے اور یہ ایک قومی ذمہ داری ہے ۔

انہوںنے کہا کہ عام طورپر والدین بچوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں لیکن بے سہارا بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ریاست کا کام ہے اوراس کیلئے پنجاب حکومت نے پہلے بھی تعاون فراہم کیا ہے اورآئندہ بھی تعاون فراہم کرے گی۔انہوںنے کہاکہ نگران حکومت کا محدود مینڈیٹ ہے لیکن ہم اس محدود مینڈیٹ کے اندر عام آدمی کی فلاح وبہبود کے لئے کام کریں گے اوراس ضمن میں پوری کوشش کی جائے گی۔

انہوںنے کہاکہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو آکر مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے اوریہ ادارہ حقیقی معنوں میں قومی خدمت کررہا ہے۔انہوںنے کہاکہ نگران حکومت نے کابینہ تشکیل دے دی ہے جو کہ دس وزراء پر مشتمل ہے تاہم دو تین وزراء کی مزید گنجائش ہے کیونکہ پنجاب حکومت کے 43محکمے ہیں اورمتعلقہ ادارے بھی موجود ہیں ۔۔نگران حکومت کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ منتخب حکومت کی طرح پالیسیاں تشکیل دے اورکام کریں ،اسی لئے ہم نے مختصر کابینہ بنائی ہے ،جس میں ایک وزیر کے پاس کئی محکمے ہوتے ہیں ۔

ہم زیادہ وزیر نہیں رکھ سکتے کیونکہ ہم نے عام انتخابات کے پرامن ،شفاف اورآزادانہ انعقاد کو یقینی بنانا ہے اور منتخب حکومت کے آنے کے بعد واپس چلے جانا ہے۔۔نگران حکومت کو اس کی کارکردگی پر جانچا جائے گا اورہم عام آدمی کو ریلیف دینے کی پوری کوشش کریںگے۔انہوںنے کہاکہ قانون اورآئین کے تحت نگران حکومت کے فرائض کا تعین کردیا گیا ہے اورہم نے اسی فریم ورک کو سامنے رکھ کر کام کرنا ہے ،ہماری سب سے بنیادی ذمہ داری عام انتخابات کے عمل کو الیکشن کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں سہولتیں فراہم کرنا ہے تاکہ منصفانہ اورشفاف انتخابات یقینی بنایا جاسکے۔

نگران حکومت کی دوسری ذمہ داری روزمرہ کے انتظامی امور کو چلانا ہے جبکہ تیسر ا بنیادی فرض عوام کی بہتری کیلئے کام کرناہے جو ہم کریںگے۔۔نگران حکومت ایسی لانگ ٹرم پالیسی نہیں بناسکتی جو آئندہ نئی حکومت کی چوائس کو محدود کردے۔۔نگران حکومت نہ لانگ ٹرم پالیسی دے گی ،نہ کسی منصوبے کو روکے گی۔جو منصوبے چل رہے ہیں وہ چلتے رہیں گے۔۔نگران حکومت کو آزادانہ ،منصفانہ اورشفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے میڈیا کے تعاون کی ضرورت ہے ۔

ہم عام انتخابات کے شفاف، منصفانہ اور آزادانہ انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام کریںگے اوراس ضمن میں اعلی سطح پر انتظامی تبدیلیاں کی گئی ہیںجبکہ کچھ انتظامی تبدیلیاں مزید ہوںگی جس کی منظوری ہم الیکشن کمیشن سے لیں گے کیونکہ یہ ہمارے لئے لازم ہے اورہم ہر اقدام قانون اورآئین کے دائرہ کار کے اندررہ کر کریں گے ۔ہم کوئی نئی پالیسی نہیں دیںگے کیونکہ یہ ہمارا مینڈیٹ نہیںہے۔

جو پالیسیاں چل رہی ہیں ہم ان کو چلائیںگے اوران میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے۔ہم سے اگر سیاسی جماعتیں رابطہ کرتی ہیں تو ہم انہیں فیسلٹیٹ کرنے کی پوری کوشش کریںگے تاکہ آزادانہ ،منصفانہ اورشفاف انتخابات کو یقینی بنایا جاسکے اور ایسی نمائندہ حکومت سامنے آئے جو عوام کی مینڈیٹ کی حمایت یافتہ ہو۔انہوںنے کہا کہ پرانی پالیسیوں کو او پر نیچے کر کے نہ بدلیں گے اورنہ ان میں اکھاڑ پچھاڑ کریںگے۔

میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں نے خود بھی انتخابات کی مانیٹرنگ کی ہے ۔ پولنگ کے روزپولنگ سٹیشن کے اندر جانے کی پابندی ہوتی ہے تاہم میں وزیر اطلاعات سے کہوں گا کہ وہ اس ضمن میں الیکشن کمیشن سے ہدایات لیں اوراس فریم ورک کی روشنی میں اقدامات کریں گے۔انہوںنے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ میڈیا کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں لیکن ہم نے ایک فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا ہے۔

ایک اورسوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز تبدیل ہوچکے ہیں اوریہ تبدیلیاں مشاورت سے ہوئی ہے آئندہ بھی تبدیلیاں مشاورت سے ہوں گی تاہم اس کی منظوری الیکشن کمیشن سے لی جائے گی۔انہوںنے کہا کہ کچھ مزید تبدیلیاں بھی ہوںگی ۔ کیونکہ چیف سیکرٹری اور آئی جی صوبے میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں ،ہماری کوشش ہوگی کہ غیر جانبدارانہ ڈھانچہ بنایا جائے اورہر پارٹی کو الیکشن میں حصہ لینے کیلئے برابر کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔

جہاں بھی کوئی شکایت ملی اس کا ہر ممکن ازالہ کریںگے۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ نگران حکومت کا منتخب حکومت کے ساتھ موزانہ نہیں کیا جاسکتا۔تاہم ہم عام آدمی کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کریںگے اوران کے مسائل میں کمی لانے کے لئے اقدامات کریں گے۔اورنج لائن میٹروٹرین کے پوچھے گئے ایک سوال کے بارے میں انہوںنے کہا کہ جو موجودہ منصوبے چل رہے ہیں ہم انہیں نہیں روکیں گے کیونکہ یہ کام منتخب حکومت کا ہے تاہم ایسے ہسپتال یا سکول جن کی عمارتیں 80سے 90فیصد بن چکی ہے اورانہیں چلایا جاسکتا ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ اس مختصر مدت میں یہ کام کریں۔

ہماری کارکردگی کو آپ اور عوام جج کریںگے اورجب نگران حکومت کا دور ختم ہوگا تو ہی اس کی کارکردگی زیر بحث آئے گی۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ پنجاب کابینہ میں پیشہ وارانہ تجربے کے حامل شخصیات کو شامل کیاگیاہے اورتمام فیصلے نگران صوبائی وزراء خود کریںگے اوراس ضمن میں وہ مکمل بااختیار ہیں تاہم اس ضمن میں باہمی مشاورت بھی ہوگی۔۔پنجاب میںصوبائی وزراء کو اضافی محکمے بھی دیئے جائیںگے۔