نواز شریف نیب میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں ، عام انتخابات کاعمل تیزی سے جاری ہے، نگراں صوبائی حکومتوں کو تیزی سے کام کرنا چاہیے ، نگران حکومت کی کارکردگی بہت سست ہے ، پنجاب، سندھ میں سابقہ حکومتوں کے وفادار بیٹھے ہیں اور پنجاب، سندھ میں اب تک انتظامیہ کو تبدیل نہیں کیا جاسکا، تاخیر کے باعث شریف خاندان کو مقدمات میں سزائیں نہیں ہو ر ہیں ،نظام میں تبدیلی نہیں کی جائے گی تو معاملات آگے نہیں بڑھیں گے

تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فواد چوہدری کا پریس کانفرنس سے خطاب

پیر جون 22:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فواد چوہدری نے کہاہے کہ نواز شریف نیب میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں اور عام انتخابات کاعمل تیزی سے جاری ہے، نگراں صوبائی حکومتوں کو تیزی سے کام کرنا چاہیے اس کی کارکردگی بہت سست ہے ، پنجاب،، سندھ میں سابقہ حکومتوں کے وفادار بیٹھے ہیں اور پنجاب،، سندھ میں اب تک انتظامیہ کو تبدیل نہیں کیا جاسکا، تاخیر کے باعث شریف خاندان کو مقدمات میں سزائیں نہیں ہو رہی ہیں اور نظام میں تبدیلی نہیں کی جائے گی تو معاملات آگے نہیں بڑھیں گے۔

وہ پیر کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امیدواروں کی اسکروٹنی کا منگل کو آخری دن ہے اور جن لوگوں پر اعتراضات تھے ان پر الیکشن کمیشن نے نظر نہیں ڈالی ہے۔

(جاری ہے)

نگراں صوبائی حکومتوں کو تیزی سے کام کرنا چاہیے اور نگراں حکومت کی کارکردگی بہت سست ہے۔ پنجاب،، سندھ میں سابقہ حکومتوں کے وفادار بیٹھے ہیں اور پنجاب،، سندھ میں اب تک انتظامیہ کو تبدیل نہیں کیا جاسکا۔

تاخیر کے باعث شریف خاندان کو مقدمات میں سزائیں نہیں ہو رہی ہیں اور نظام میں تبدیلی نہیں کی جائے گی تو معاملات آگے نہیں بڑھیں گے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا وفد عمران خان کی ہدایت پر ہارلے اسٹریٹ گیا اور بیگم کلثوم نوازکی عیادت کی ہے۔ شریف خاندان سے ہمارا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے۔ نواز شریف پر 300 اروب روپے باہر لے جانے کا الزام ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف پر منی لانڈرنگ سمیت دیگر الزامات ہیں اور نواز شریف قومی مجرم ہیں انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے۔ 9 سال سے شریف خاندان کیخلاف مقدمہ چل رہا ہے جبکہ افتخار چوہدری کے کردارسے سب واقف ہیں۔ ریحام خان پیچھے ہٹیں تو افتخار چوہدری سامنے آگئے ہیں اور افتخار چوہدری دوبارہ رائیونڈ کے لیے کام کررہے ہیں۔ افتخار چوہدری نے 2013 میں ن لیگ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور نواز شریف نے افتخار چوہدری کو صدر بنانے کا وعدہ کیا پھر مکر گئے۔

افتخار چوہدری نے نواز شریف کیخلاف باتیں کیں پھرچپ ہوگئے اور افتخار چوہدری کو عمران خان کیخلاف بولنے کے لیے سامنا لایا گیا ہے۔ افتخار چوہدری نے بیٹے کو اپنا ایجنٹ مقرر کیا ہے اور افتخار چوہدری اور ارسلان افتخار نے اربوں روپے کمائے ہیں۔ افتخار چوہدری پاکستان کے نظام پر ایک ناسور کی طرح ہیں اور ایڈن ہاسنگ سوسائٹی میں عوام کے اربوں روپے لٹ گئے ہیں۔

ای اوبی کیس میں بھی سرکاری ملازمین کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں اور افتخار چوہدری اپنے بیٹے کیخلاف مقدمہ سننے بیٹھ گئے تھے۔ ارسلان افتخار بلیک میلنگ مقدمے میں کارروائی کیوں نہیں ہوئی ہے اور کیا نیب کو افتخار چوہدری کے خلاف کیسز نظر نہیں آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افتخار چوہدری جو کھیل کھیل رہے اس سے سیاست کو نقصان پہنچا اور پی ٹی آئی کیخلاف ن لیگ کا میڈیا سیل منظم سازشیں کررہا ہے۔